مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 356
وہ ہ کس باپ کا بیٹا تھا اور کس دادے کا پوتا تھا! آج یہی ابنائے فارس ہی تو ہیں جو وفا اور محبت اور رحم کے بے پناہ جذبات رکھتے ہیں اور غیروں کے دُکھوں دردوں کو بھی محسوس کرتے ہیں یہ تو پھر بھی اپنا غلام تھا، آخر حضور (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ) کی دعائیں مستجاب ہوئیں اور خلاف توقع نہ صرف ساتویں دن عزیز موصوف کی رہائی ہوئی اور وہ لوگ 100 معززین کا وفد لے کر معذرت خواہی کے لئے آئے اور 50 لاکھ روپیہ موصول شدہ تاوان بھی واپس کر گئے۔“ پہلے سے ایک تہائی قیمت پر سودا: (روز نامه الفضل سیدنا طاہر نمبر 27 دسمبر 2003ء۔صفحہ 54) مکرم و محترم سید نصیر احمد صاحب چیئر مین ایم ٹی اے انٹر نیشنل تحریر فرماتے ہیں: 1996ء میں ہم امریکہ کینیڈا کے لئے ڈیجیٹل سروس شروع کر رہے تھے اور یہ ان وقتوں کے لحاظ سے ایک نہایت انقلابی قدم تھا۔ابھی ڈیجیٹل ریسیور بھی دستیاب نہ تھے۔بڑی کوششوں اور کئی مشکلات کے بعد ایک کمپنی سے طے پایا کہ وہ ہمارے لئے ریسیور نئے سرے سے Develope کریں گے۔اگرچہ قیمت زیادہ تھی مگر کوئی چارہ نہ تھا۔ایک تسلی کا سامان تھا کہ اب امریکہ کینیڈا کے لئے چوبیس گھنٹے کی نشریات بلارکاوٹ شروع ہو سکیں گی۔حضور انور بھی مطمئن تھے۔پھر اچانک اس کمپنی کا فون آیا کہ ہم کچھ مشکلات میں آگئے ہیں۔لہذا اب ہم ریسیور نہیں بنا سکیں گے۔تمام منصوبوں کا محل یکدم مسمار ہوتا نظر آیا۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ان دنوں ہالینڈ (Holand) کے دورے پر تھے۔خاکسار نے ڈرتے ڈرتے، اپنے خیال میں نیچے تلے الفاظ میں حضور کی خدمت میں فیکس کر دیا اور احساس کے اندر ہی دفتر تبشیر سے مکرم اخلاق انجم صاحب کا فون آیا ہے اور فرمایا ہے: یعنی اللہ ہمارے ساتھ ہے۔اے اللہ روح القدس سے ہماری مدد فرما۔خلافت کی دعاؤں کی معجزانہ برکات کے سلسلہ میں اپنے گزشتہ حسین تجربات کی بنا پر خاکسار کو اسی وقت تسلی ہو گئی کہ محض حضور انور کی دعاؤں سے خدا تعالیٰ ضرور کوئی راستہ نکال دے گا۔اس واقعہ کے تیسرے دن ایک دوسری کمپنی نے جس کا ہمیں اس سے قبل علم ہی نہ تھا، ریسیور بنانے کی پیشکش یوں کی کہ پہلے سے ایک تہائی قیمت پر سودا ہو گیا۔اور پھر انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں ڈیجیٹل ریسیور ہماری عین ضرورت کے مطابق تیار کئے جو آج بھی امریکہ اور کینیڈا میں استعمال ہو رہے ہیں۔اب اسے اگر محض اور محض خلافت کا اعجاز دعا تسلیم نہ کیا جائے تو اور کیا ہوسکتا ہے۔“ الفضل انٹر نیشنل 25 جولائی 2003ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام قبولیت دعا کے متعلق فرماتے ہیں: ”دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے رب میں ایک تعلق جاذبہ ہے یعنی پہلے خدا تعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خدا تعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے۔سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفا داری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہِ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں، تب اس 356