مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 348 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 348

خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) خود ٹیلیفون کے نزدیک تشریف لے آئے اور خاکسار سے براہِ راست بچے کی بیماری اور علاج کی ساری تفصیل سن کر فرمایا: ” میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا آپ فکر نہ کریں بچہ صحت یاب ہو جائے گا گھبرانے کی قطعاً ضرورت نہیں۔اپنے محسن اور شفیق آقا سے تسلی پا کر خاکسار اسی وقت کلینک پہنچا۔ڈاکٹر صاحبہ نے بچے کی حالت دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ اب بچہ ایسی حالت کو پہنچ چکا ہے کہ علاج جاری رکھنا ممکن نہیں رہا میں نے ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے آقا (حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی) کی دُعا اور تسلی آمیز یقین دہانی کا ذکر کیا تو موصوفہ جیسے خوشی سے اُچھل پڑیں کیونکہ موصوفہ خود بھی نہایت دُعا گو احمدی خاتون تھیں۔جب کمرے میں جا کر بچہ کی حالت دیکھی تو وہ ایسی حالت میں تھا کہ بڑی ہی کمزور نبض کی معمولی حرکت جاری تھی مگر جسم کی رطوبت ختم ہو کر جسم میں کوئی لوح نہ تھی بلکہ سارا جسم سخت اکٹڑ چکا تھا اور بچہ چند لمحوں کا مہمان نظر آتا تھا۔بہر حال سوائے دعا کے کوئی چارہ نہ تھا اور ایسی حالت میں دعاؤں میں سخت رقت تھی۔اچانک بچے کی آنکھوں میں ہلکی سی حرکت ہوئی اور اس کے ساتھ ہی تدریجاً اُمید کی صورت بڑھنے لگی۔کچھ وقفہ کے بعد بچہ نے دُودھ بھی پی لیا اور ٹمپریچر نارمل کی طرف بڑھنے لگا اور چہرہ پر کچھ تازگی آ گئی۔رات سکون سے گزری اور صبح جب ڈاکٹر صاحبہ نے بچہ کا معائنہ کیا تو ان کی رپورٹ یہ تھی کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بچہ معجزانہ طور پر بیماری کی گرفت سے پوری طرح نکل کر ناریل حالت پر آگیا ہے اور سوائے کمزوری کے کوئی رمق بیماری کی باقی نہیں رہی۔تب ڈاکٹر صاحبہ نے بیماری کی صحیح کیفیت بھی بتا دی کہ بچہ بیک وقت سرسام اور گردن توڑ بخار سے بیمار تھا او ر DEHYDRATION سے رگیں تک سوکھ گئی تھیں اور سوائے دعا کے اعجاز کے صحت کی کوئی صورت ہرگز ممکن نہ تھی۔“۔، (ماہنامہ خالد سید نا ناصر نمبر اپریل مئی 1983ء۔صفحہ 239,238) سعید احمد سعید صاحب چاہ بوہڑ والا ملتان لکھتے ہیں: ”خاکسار 1957ء تا1959ء تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں زیر تعلیم رہا ہے اور دنوں خاکسار کو اعصابی دورے پڑتے تھے۔بعض لوگ اس کو مرگی کا دورہ بھی کہتے تھے۔مہینہ میں کئی بار دورہ پڑتا تھا اور اکثر اوقات کئی کئی گھنٹے بے ہوش رہتا تھا۔حضور ( حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ اس وقت کالج کے پرنسپل تھے۔ایک دن خاکسار کو بہت ہی سخت قسم کا دورہ پڑا۔کافی دیر تک ہوش نہیں آرہا تھا۔سارا فضل عمر ہوٹل پریشان تھا آخر کار حضور (حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی کو کوٹھی پر اطلاع دی گئی کہ سعید احمد ہوٹل میں دورہ پڑنے سے بے ہوش ہو گیا ہے۔حضور ( حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) اسی وقت ہوٹل میں تشریف لائے اور میری چارپائی پر تشریف فرما ہوئے پھر کھڑے ہو کر اجتماعی لمبی دعا کی جونہی حضور (حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالٰی) نے دعا ختم کی خاکسار کو ہوش آگیا۔آنکھیں کھولیں تو عجیب نظارہ دیکھا کہ حضور محبت اور شفقت سے میرے پاؤں اور ٹانگیں دبا رہے تھے۔میں نے حضور (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضور مجھے شرمندہ نہ کریں، آپ آرام فرمائیں اور گھر تشریف لے جائیں۔حضور فوری طور پر مسکرائے اور فرمایا: ”میں نہیں جاتا، آج تم سگریٹ پی لو اجازت ہے۔تم نے سگریٹ پینی ہو گی۔خاکسار بہت شرمندہ ہوا اور حضور حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالٰی کی دعاؤں کے طفیل سگریٹ نوشی ترک کر دی اور اب اللہ کے فضل سے وہ بیماری ختم ہو گئی میاں محمد اسلم صاحب پتو کی لکھتے ہیں: ہے۔66 (ماہنامہ خالد سید نا ناصر نمبر اپریل مئی 1983ء۔صفحہ 292) 348