مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 347 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 347

کروانی شروع کی اور ماہوار آگے جو ایک سو روپیہ روانہ کرتا تھا اس کے عوض دو سو روپیہ روانہ کرنے لگا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم کو سالانہ اوسطاً پندرہ ہزار منافع ہونے لگا۔الحمد للہ ثم الحمد للہ۔(الحكم دسمبر 1939ء) حضرت خلیفة أصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے قبولیت دعا کے واقعات مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب لکھتے ہیں: ’1965 ء میں جبکہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ مسند خلافت یہ متمکن ہوچکے تھے۔خاکسار ان ایام میں منڈی بہاؤالدین میں بطور مربی متعین تھا۔مجھے ایک مرتبہ پیٹ میں دائیں جانب درد سی رہنے لگی۔ایک ڈاکٹر کے پاس مشورہ کے لئے گیا تو ڈاکٹر صاحب نے پوری طرح معائنہ کے بعد دوبارہ آنے کے لئے کہا جب دوبارہ حاضر ہوا تو وہاں ایک اور ڈاکٹر بھی میرے معائنہ کے لئے موجود تھے۔چنانچہ اس دفعہ دونوں ڈاکٹروں نے مل کر معائنہ کے بعد یہ رائے قائم کی کہ اپینڈیکس بڑھنے کا قوی امکان ہے اور اس صورت میں آپریشن کی ضرورت ہو گی۔خاکسار کو یہ سن کر تشویش ہوئی اور اگلے ہی روز خاکسار نے ربوہ پہنچ کر حضور ( حضرت خلیفة أصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضری دی، ساری کیفیت بیان کر کے اور ڈاکٹروں کی رائے بتا کر دعا کی عاجزانہ درخواست کی۔حضور ( حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے نہایت توجہ سے ساری باتیں سن کر خاکسار کو تسلی دی کہ انشاء اللہ میں دعا کروں گا اور ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق اپینڈیکس کی تکلیف ہرگز نہ ہو گی آپ فکر نہ کریں۔چنانچہ خاکسار کی ساری فکر جاتی رہی بلکہ اگر کوئی تکلیف پردہ غیب میں مقدر بھی تھی تو میرے پیارے آقا حضرت خلیفۃ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) کی دعاؤں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور ڈاکٹروں کی رائے نے واقعاتی رنگ اختیار نہیں کیا۔فالحمد للہ علی ذلک۔مکرم سلطان محمود انور صاحب لکھتے ہیں:۔(ماہنامہ خالد سیدنا ناصر نمبر۔صفحہ 238۔237۔اپریل مئی 1983ء) "1972-73ء میں جب کہ خاکسار کراچی میں بطور مربی متعین تھا میرا چھوٹا بیٹا عزیزم سلمان محمود بعمر ڈیڑھ سال سخت بیمار پڑ گیا۔اور محترمہ ڈاکٹر محمودہ نذیر صاحبہ (اللہ تعالیٰ موصوفہ کی مغفرت فرمائے اور بے شمار اجر عطا کرے (آمین) کے زیر علاج تھا۔جب بیماری میں زیادہ شدت آگئی تو موصوفہ نے اپنے گھر والے کلینک میں بچے کو admit کر لیا اور بڑی توجہ سے علاج جاری رکھا مگر حالت دن بہ دن خراب ہو تی گئی۔ایک روز بعد نماز مغرب خاکسار کو ٹیلیفون پر ڈاکٹر صاحبہ موصوفہ نے بتایا کہ بچے کی حالت ایسی ہو چکی ہے کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔میں پوری کوشش کر چکی ہوں مگر صحت ہوتی نظر نہیں آتی اس طرح موصوفہ نے پوری مایوسی کا اظہار کر دیا۔یہ سن کر خاکسار نے کراچی سے ربوہ اپنے پیارے آقا کی خدمت میں ٹیلیفون کال بک کرائی تا کہ دعا کے لئے درخواست کروں ان دنوں کال ملنے کے انتظار گھنٹوں کرنی پڑتی تھی مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ٹھیک پانچ منٹ میں کال مل گئی اور حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ اَعْلَى اللَّهُ مَثْوَاهَا نے فون اٹھایا اور بتایا کہ حضور (حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) تو اس وقت عشا کی نماز کے لئے مسجد میں ہیں آپ پیغام دے دیں۔خاکسار نے بچے کی حالت کا ذکر کر کے دعا کی درخواست حضور (حضرت خلیفة رايح الثالث رحمہ اللہ تعالی) کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے عرض کیا اسی دوران حضور (حضرت خلیفة اصبح الثالث تعالیٰ) تشریف لے آئے تو حضرت بیگم صاحبہ نے مجھے فرمایا کہ انتظار کریں میں ابھی حضور (حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) کی خدمت میں عرض کئے دیتی ہوں۔چنانچہ آپ، حضور (حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) کی خدمت میں عرض کرنے کے بعد مجھے فون پر بتا رہی تھیں کہ اسی دوران پیارے آقا (حضرت رحمم ا الله 347