مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 346
اللہ عنہ ) کی خدمت میں اور دوسرا الفضل کو روانہ کیا اور پھر ایک بار حضور (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ ) کی دعا کا معجزانہ نتیجہ دیکھا کہ بغیر کسی ڈاکٹری علاج کے صرف ایک معمولی دوائی کی۔دوائی سے میری پیاری لڑکی کامل صحت پا گئی۔الحمد للہ ثم الحمد للہ عنہ (الحکم دسمبر 1939ء) مکرم سیٹھ عبدا للہ بھائی اللہ دین صاحب لکھتے ہیں: ”حضرت امیر المومنین حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) کے ارشاد کے مطابق میں نے اپنے لڑکے علی محمد سلمہ۔I۔C۔S کے لئے لندن روانہ کیا۔وہاں ان کو پہلے۔M۔A کی ڈگری حاصل کرنا ضروری تھا۔مگر۔M۔A میں اس قدر دیر ہو گئی کہ۔I۔C۔S کے لئے موقع نہ رہا۔M۔A کے سات مضامین میں سے چھ تو انہوں نے پاس کر لئے مگر آخری مضمون CONSTITIONAL LAW AND CONSTITUTIONAL HISTORY میں متواتر فیل ہوتے گئے اس لئے وہ بیزار ہو کر واپس گھر آنا چاہتے تھے۔ان کو سات سال کا عرصہ ہو گیا تھا اس لئے میں نے حضرت امیر المومنین حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) سے ان کو واپس بلا لینے کی اجازت چاہی مگر حضور ( حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ان کا نام پاس ہونے والوں کی فہرست میں دیکھا ہے اس لئے انشاء اللہ یہ یقیناً پاس ہو کر آئیں گے۔میں نے ان کو یہ سارا حال لکھ کر پھر کوشش کرنے کو کہا اس پر انہوں نے پھر ایک بار کوشش کی مگر پھر بھی فیل ہو گئے۔یہ بے حد پریشان تھے کہ اب آئندہ کیا کیا جائے۔ان کے استاد کو جب معلوم ہو کہ پھر فیل ہو گئے تو اس نے تحقیق کی۔معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کا وہاں کیا کرشمہ ہوا کہ ایک دو روز میں ان کو یونیورسٹی کی طرف سے اطلاع ملی کہ آپ کے فیل ہونے کی خبر غلط تھی آپ پاس ہو گئے ہو۔بہت خوش ہوئے اور سمجھ گئے یہ محض خدا تعالیٰ نے اپنے خلیفہ کا خواب پورا کرنے کیلئے ان پر یہ کیا ہے۔انہوں نے خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کیا اور ڈگری حاصل کر کے حج کا موقع تھا اس لئے واپس ہوتے ہوئے حج کر کے الحاج علی محمد ایم۔اے بن کر ہم کر آملے۔الحمد للہ ثم الحمد للہ (الحكم دسمبر 1939ء) سیٹھ عبداللہ بھائی اللہ دین صاحب لکھتے ہیں: ”ہماری تجارتی فرم میں ہم چاروں بھائی مختلف کام دیکھتے تھے۔خان بہادر احمد الہ دین بھائی سیمنٹ اور کوئلہ کا کام دیکھتے تھے۔غلام حسین بھائی ایس اور سوڈا کا کام دیکھتے تھے۔قاسم علی بھائی دفتر میں بوٹس ہڈی کا۔میں جب احمدی ہوا تب سے مجھے حضرت امیر المومنین کی دعاؤں کی تاثیرات کا خوب علم تھا اس لئے میرے ذمہ جو کام تھا اس کی ترقی کے لئے حضور ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) سے دعائیں کرواتا رہتا تھا اور حضور کی خدمت میں ماہوار ایک سو روپیہ نذرانہ روانہ کرتا رہتا تھا جس کے طفیل ہماری فرم کو سالانہ اوسطاً دس ہزار روپیہ منافع ہوا کرتا تھا۔میرے بھائی قاسم علی اہل حدیث ہو گئے اور میری مخالفت شروع کر دی۔مولوی ثناء اللہ صاحب کو امرت سر سے بلوایا کر خوب مخالفت کروائی جس میں میرے غلام حسین بھائی بھی شریک ہو گئے۔اب یہ دونوں بھائی میں جو کام دیکھتا تھا اس میں دخل دینے لگے اور میں جو ماہوار رقم قادیان روانہ کرتا تھا اس کے متعلق اعتراض کرنے لگے اس لئے میں نے روپیہ بھیجنا موقوف کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہماری فرم کا جو دس ہزار روپیہ منافع ہو تا تھا وہ جاتا رہا بلکہ نقصان ہوتا رہا۔آخر وہ وقت آیا کہ ہماری فرم نے تجارت ترک کر دی۔۔۔۔۔میں نے حضور ( حضرت خلیفہ اُسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) سے آگے کے مطابق دعا 346