مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 345 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 345

نے توجہ سے سن کر فرمایا کہ آپ کو اپنڈے سائٹس تو قطعا نہیں ہاں تھیمیں نقص ہے آپ علاج کرائیں میں دعا کروں گا انشاء اللہ آرام آجائے گا۔اس کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ میں تندرست ہو جاؤں گا۔چنانچہ میں اپنی ملازمت پر واپس چلا آیا اور ملتان کے ایک حکیم صاحب سے معمولی ادویات لے کر استعمال کرنا شروع کیں۔تین چار ماہ کے بعد بیماری کا نام و نشان بھی نہ رہا۔حالا نکہ اس سے قبل تقریباً دو سال یونانی اور انگریزی ادویات استعمال کر چکا تھا۔یہ صرف حضور کی معجزانہ دعا کا نتیجہ تھا جس نے میرے جیسے مردہ کی مانند مریض کو شفا یاب کر دیا۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے آج تک مجھے پیٹ کی تکلیف نہیں ہوئی۔حالانکہ غذا کے معاملہ میں سخت بد پرہیزی کرتا رہا ہوں۔“ (روز نامه افضل 20 مارچ 1966 ء) مکر سیٹھ عبداللہ بھائی اللہ دین صاحب لکھتے ہیں: 1918ء میں میں نے اپنے لڑکے علی محمد صاحب اور سیٹھ اللہ دین ابراہیم بھائی نے اپنے لڑکے فاضل بھائی کو کے لیے قادیان روانہ کیا۔علی محمد نے 1920ء میں میٹرک پاس کرلیا ان کو لندن جانا تھا۔دونوں لڑکے مکان میں واپس آنے کی تیاری کر رہے تھے کہ یکایک فاضل بھائی کو TYPHOID بخار ہو گیا تو ہاسٹل کے معزز ڈاکٹر جناب حشمت اللہ صاحب اور حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کچھ ان سے ہو سکا سب کچھ کیا طبیعت درست بھی ہو گئی مگر بد پرہیزی کے سبب پھر ایسی بگڑی کہ زندگی کی کوئی امید نہ رہی۔جب یہ خبر حضرت امیر المومنین حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) کو پہنچی تو حضور (حضرت خلیفۃ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ ( خود بورڈنگ میں تشریف لائے اور بہت دیر تک دعا فرمائی۔اس کے طبیعت معجزانہ طور پر سدھر نے لگی اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے فاضل بھائی کو نئی زندگی حاصل ہو گئی۔یقیناً حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا کہ موت نہیں ملتی مگر دعا سے۔یہ حقیقت ہم نے صاف طور پر اپنی نظر سے دیکھ لی۔الحمد لله (الحکم دسمبر 1939ء) مکرم سیٹھ عبداللہ بھائی اللہ دین صاحب لکھتے ہیں: اسی طرح ایک اور واقعہ ہوا۔میری تیسری لڑکی عزیزہ ہاجرہ بیگم کے پیٹ میں یکا یک درد ہو گیا۔ہم نے اپنے ، ہنے والے سرکاری خطاب یافتہ ڈاکٹر کو جو آنریری مجسٹریٹ بھی ہے بلوایا۔انہوں نے دیکھ کر کہا کہ لڑکی کے پیٹ میں ہو گیا ہے فوراً آپریشن (operation) کر کے نکال دینا چاہئے ورنہ جان کا خطرہ ہے وہ دسمبر کا مہینہ تھا۔مجھے قادیان سالانہ جلسہ پر ایک دو روز میں جانا تھا اور یہاں یہ حالت ہو گئی۔پھر ہم نے یہاں کے ہاسپٹل (Hospital) کے بڑے یورپین ڈاکٹر کو بلوایا اس نے خوب معائنہ کیا اور کہا کہ نہ پیپ ہے اور نہ آپریشن کی ضرورت۔ہم سب یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور خدا تعالیٰ کو شکر کیا لیکن وہ ڈاکٹر اپنی رائے پر ہی اڑا رہا کہ یقیناً ہے۔فوراً آپریشن کی ضرورت ہے اس کے بغیر اگر یہ لڑکی بچ جائے تو میں اپنی ڈاکٹری چھوڑ دوں گا لیکن ہم نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی میں دوسرے روز قادیان روانہ ہو گیا۔وہاں سے واپس آنے تک لڑکی اچھی رہی مگر اس کے بعد یکا یک لڑکی کی ناف میں سوراخ ہو گیا اور اس قدر پیپ نکلا کہ جس کی کوئی حد نہیں رہی۔ہم نے پھر اسی ڈاکٹر کو بلوایا جس نے کہا تھا کہ پیپ ہے۔اب ہم آپریشن کے لئے بھی رضامند ہو گئے مگر اس نے کہا کہ لڑکی کی حالت بہت نازک ہو گئی ہے۔اب آپریشن کا وقت نہ رہا۔اب وہ کیس HOPELESS ہو گیا۔ہم نے فوراً ایک تار حضرت امیر المومنین (حضرت خلیفة أمسیح الثانی رضی 345