مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 341 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 341

مگر اب نہیں آئیں گے۔چنانچہ اس کے بعد کوئی کمبل نہیں آیا۔“ بارش بند ہونے کی دعا: (حیات نور۔صفحہ 517) چودھری غلام محمد صاحب بی اے کا بیان ہے کہ: ” 1909ء کے موسم برسات میں ایک دفعہ لگاتار آٹھ روز بارش ہوتی رہی جس سے قادیان کے بہت سے مکانات گر گئے۔حضرت نوب محمد خاں صاحب مرحوم نے قادیان سے باہر نئی کوٹھی تعمیر کی تھی وہ بھی گر گئی۔آٹھویں یا نویں دن حضرت خلیفہ ایچ اول رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز کے بعد فرمایا کہ میں دعا کرتا ہوں لوگ آمین کہیں۔دعا کرنے کے بعد آپ (حضرت خلیفۃ امسیح الاول رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ میں نے آج وہ دعا کی ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر میں صرف ایک دفعہ کی تھی۔دعا کے وقت بارش بہت زور سے ہو رہی تھی اس کے بعد بارش بند ہو گئی اور عصر کی نماز کے وقت آسمان بالکل صاف تھا اور دھوپ نکلی ہوئی تھی۔“ (حیات نور۔صفحہ 441 و 442) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے قبولیت دعا کے واقعات حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی ہے اور مجھے اللہ عنہا تحریر فرماتی ہیں: پارٹیشن (partition) کے پریشانی کے دنوں کا واقعہ ہے کہ ایک دن عصر کے وقت آپ (حضرت خلیفۃ اتر الثانی رضی اللہ عنہ) میرے پاس آئے، آپ کی آنکھیں سرخ اور متورم تھیں، آواز میں رفت تھی مگر اس پر پورا ضبط کئے ہوئے تھے۔مجھے فرمانے لگے: صبح صبح عید ہے میں شائد آپ لوگوں کو عید دینی بھول جاؤں۔کام کی مصروفیت غیر معمولی موجودہ حالات کے متعلق شدید گھبراہٹ ہے۔گو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے میری دعا کو سنا ہے اور اس کا یہ وعدہ ہے کہ أَيْنَمَا تَكُونُوا يَأْتِي بِكُمُ اللَّهَ جَمِيعًا، میں سجدہ کی حالت میں تھا جس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت ملی ہے اور مجھے اس پر پورا ایمان ہے لیکن پھر بھی دعا کی سخت ضرورت ہے تم بھی درد سے دعائیں کرو۔اللہ تعالی تبلیغ کے راستے ہمیشہ کھلے رکھے۔“ میں نے آپ (حضرت خلیفۃ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) کا یہ الہام و بشارت نوٹ کر لیا اور اس کے پورا ہونے کی منتظر رہنے لگی۔آج آپ سب دیکھ رہے ہیں کہ وہ دعا اور پھر اس کو جواب جس میں بشارت تھی کسی خوبی اور کس خوبصورتی سے پورا ہوا۔کس طرح قادیان سے نکلنے کے بعد پھر یہ ساری جمیعت ایک جھنڈے تلے جمع ہوئی اور پھر کس شان و شوکت سے اسلام کی تبلیغ چار دانگ عالم میں پہنچی، کس طرح زیادہ سے زیادہ حق کی تڑپ و جستجو رکھنے والے احمدیت کے اس دوسرے مرکز میں جوق در جوق پہنچے۔فالحمد الله علی ذلک۔(روز نامہ الفضل 26 مارچ فضل عمر نمبر 1966) پارٹمیشن حضرت سیدہ مہر آپا رضی اللہ عنہا مزید تحریر فرماتی ہیں: ایک اور واقعہ اسی زمانہ کا ہے جو اس مستجاب الدعوات کے شان نزول کا شاہد ہے۔(partition) کے بعد خاص مشکلات کا سامنا رہا۔اسلام دشمنی کے سند یافتہ کب پیچھا چھوڑ سکتے تھے۔محض اور محض احمدیت کی دشمنی کی بنا پر جب عزیز محترم میاں ناصر احمد صاحب (خلیفۃ پر جب عزیز محترم میاں ناصر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ 341