مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 331
کی ایک سادہ تشریح آپ کو بتاتا ہوں جو ابھی آپ کو دیکھتے دیکھتے بات سمجھا دے گی اور وہ آپ کی اس عارفانہ نظم کی درحقیقت تفسیر ہے ، تفسیر کا لفظ تو میں نہیں بولتا، لیکن اس مضمون کو سمجھانے کے لئے میں کہتا ہوں۔آپ کے سامنے میں ربوہ کی مثال رکھتا ہوں۔آپ لوگ پاکستان کے مختلف شہروں میں رہتے ہیں۔وہاں سے ربوہ تشریف لائے ہیں یہاں آپ نے کچھ چہرے دیکھے ہیں ان چہروں میں خدا کا خوف دکھائی دیتا ہے، ان چہروں میں آپ کو عبادت کے رنگ دکھائی دیتے ہیں، ان چہروں میں آپ کو تقوی دکھائی دیتا ہے، ان چہروں میں آپ کو دین کی محبت اور اسلامی آداب اور اسلامی اخلاق دکھائی دیتے ہیں، یہاں کے گلیوں میں چلنے پھرنے والوں کو آپ نے دیکھا اور آپ اپنے دل سے گواہی لے کر مجھے بتائیں کہ کیا آپ کی آنکھوں نے آپ کو صحیح خبر نہیں دی؟ کیا آپ کی آنکھوں نے واقعتا یہ اطلاع نہیں دی کہ اسلام کا جو بھی تصور ہے وہ یہاں پایا جاتا ہے اور جو مؤمنین کی ادائیں ہونی چاہئیں وہ ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔پھر آنکھوں نے تو آپ سے کوئی دھوکہ نہیں کیا۔اس کے باوجود اگر آپ کے دل کچھ اور پیغام لیں تو خدا کی بنائی ہوئی آنکھوں کا کیا قصور ہے؟ پھر میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ موازنے کے طور پر چنیوٹ چلے جائیں جو ربوہ کے قریب ہی ہے اور وہاں بھی جاکر لوگوں کے چہروں کا مشاہدے کریں، وہاں بھی ان کی حرکات و سکنات کو غور سے دیکھیں، وہاں جا کر بھی سوچیں کہ آپ کے نزدیک قرونِ اولیٰ کے مسلمان کیسے ہونے چاہئیں تھے؟ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پانے ( والوں) کی کیا ادائیں ہونی چاہئیں اور دیکھیں اور پھر اپنے نفس سے پوچھیں کہ کیا آنکھوں نے آپ سے جھوٹ بولا ہے؟ کیا آنکھوں کا پیغام یہی تھا کہ یہ جو ربوہ کے سب سے شدید مخالفین میں سے ہیں یہ بچے۔۔۔۔۔۔۔دکھائی دے رہے ہیں یا آپ کی آنکھوں نے آپ کو یہ بتایا تھا کہ اسلام کی کوئی بھی علامتیں ان میں نہیں پائی جاتیں۔ان کا اٹھنا بیٹھنا ان کا بولنا، ان کا چلنا پھرنا، ان کے مزاج سارے سے دور پڑے ہوئے ہیں تو اب بتائیں کہ ہمارے خدا نے آپ کے ساتھ انصاف کیا کہ نہیں کیا۔آپ کو سچی آنکھیں بخشیں کہ نہیں بخشیں۔(سورۃ الحج آیت 47) والا مضمون ہے مگر اس آیت کا میں نے حوالہ نہیں دیا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوا کرتیں وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں چھپے ہوئے ہیں۔یہاں صدور سے مراد تاریکی کے پردوں میں چھپے ہوئے دل ہیں۔پس وہ دل جو خود اندھیروں میں بس رہے ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں نہ کہ وہ آنکھیں جو صحیح پیغام جو کچھ وہ دیتی ہیں لوگوں تک پہنچا دیا کرتی ہیں۔پس یہ رویا جو ہے یہ دیکھتے ہی میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اتنا واضح نظارہ ہے جیسے میں آمنے سامنے دیکھ رہا ہوں اسی کیفیت میں میں جاگ بھی چکا تھا اور رؤیا کا مضمون جاری تھا یعنی صفائی رؤیا کی ایسی تھی کہ گویا بالکل جاگے ہوئے کا کوئی نظارہ ہو اور چنانچہ نیند میں اٹھنے میں کوئی فرق نظر نہیں آیا اور رؤیا کے جو آخری فقرے ہیں وہ جاگ کر میں نے ادا کئے۔جبکہ وہ منظر نظر سے غائب ہو چکا تھا۔“ فرمایا: اسلام (الفضل 17 جون 1990ء) مذہبی دنیا کا ضائع شدہ مواد: حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مَغضُوبِ عَلَيْهِمْ کی تشریح بیان کرتے ہوئے خطبہ جمعہ 28 دسمبر 1990ء میں اس ضمن میں میں ایک دفعہ غور کر رہا تھا اور دعا کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس مضمون کو زیادہ واضح طور پر 331