مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 324 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 324

رؤيا وكشوف حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ: اللہ کی رحمت: حضرت خلیفة اصیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 30اکتوبر 1983 ء کو دورہ مشرق بعید اور آسٹریلیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ނ ہے اور جس دن ہم نے صبح کینبرا (Canberra) روانہ ہونا تھا اُس رات میں نے ایک ایسا خواب دیکھا جس میرا دل بہت مطمئن ہو گیا اور میں اس یقین سے بھر گیا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمارا ساتھ نہیں چھوڑے گی میں نے صبح اٹھ کر بچوں کو بتایا کہ اب مجھے اور بھی زیادہ تسلی ہو گئی ہے۔پہلے تو یہ تھا جو ہوا اس پر راضی ہے لیکن اب یہ تسلی بھی ہو گئی ہے کہ وہ (مخالف) ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے ان کی کچھ بھی پیش نہیں جائے گی۔چنانچہ خواب کا مضمون کچھ اس طرز کا تھا جس سے انسان کو محسوس ہو جاتا ہے کہ یہ عام خواب نہیں میں نے دیکھا کہ ایک موٹر ہے جس کے دائیں طرف میں بیٹھا ہوں اور اس کا سٹرنگ (steering) کوئی نہیں پھر بھی میں اس کو چلا رہا ہوں میرے بائیں طرف جماعت کے تین چار عہدیدار بیٹھے ہوئے ہیں اتنے میں شیخ رحمت اللہ صاحب کراچی والے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے ساتھ بیٹھنا ہے میں نے کہا کہ میرے دائیں طرف بیٹھ جائیں جس طرح ہمارے ہاں آج کل جگہ نہ رہے تو سڑکوں پر رانگ سائیڈ (wrong side) پر بٹھانے کا رواج ہے تو میں نے ان کو کہا میرے دائیں طرف بیٹھ جائیں اور یہ رانگ سائیڈ نہیں تھی رائٹ سائیڈ تھی۔وہاں ان کو بٹھا لیا اور وہ بڑی محبت سے میرے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئے اور مجھے کوئی تعجب نہیں ہے کہ میں کس طرح موٹر چلاؤں گا اس میں تو سٹرنگ کوئی نہیں ہے اور بظاہر کوئی انجن نظر نہیں آتا لیکن میں بیٹھا ہوا ہوں اور مجھے پورا یقین ہوتا ہے کہ اسی طرح موٹر چلے گی کچھ دیر کے بعد یہ نظارہ بدلا اور شیخ رحمت اللہ صاحب (ان کے نام میں اصل پیغام ہے) نے کہا کہ میں ایک منٹ کے لئے ذرا کہیں سے ہو کے آتا ہوں۔جب وہ ایک منٹ کے لئے گئے تو ادھر سے ایک دو اور آدمی داخل ہو گئے کہ اچھا موقع مل گیا ہے اور انہوں نے ساری جگہ پر قبضہ کر لیا اور میں انتہائی دائیں جانب سمٹ گیا وہ سب میری طرف آ کر بیٹھ گئے اور وہ سب جماعت کے عہدیدار لگتے تھے کہ ٹھیک ہے اب ہمیں موقع مل گیا ہے شیخ صاحب واپس آئے انہوں نے کہا میں کہاں بیٹھوں میں نے کہا کہ آپ یہاں ساتھ کھڑے ہو جائیں۔پرانے زمانے کی کاروں میں نیچے ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم نکلا ہوتا ہے اس قسم کا ایک چھوٹا سا پلیٹ فارم بھی ان کو مل گیا اور وہ میرے ساتھ جڑ کر کھڑے ہو گئے میں نے کہا کہ نہیں اس طرح نہیں آپ اندر آجائیں اور میری گود میں بیٹھ جائیں وہ اندر آئے اور میری گود میں بیٹھ گئے اور جب وہ بیٹھے تو جگہ نکل آئی اور وہ اتر کر دائیں طرف آرام کے ساتھ جڑ کے بیٹھ گئے۔میں نے اس خواب کے دیکھنے کے بعد اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح ہے اور یہ انسانی دماغ کی بنائی ہوئی خواب ہو ہی نہیں سکتی۔وقتی طور پر جو پریشانی ہوئی اسے دیکھ کر بظاہر انہوں نے یہ سمجھا کہ اللہ کی رحمت جدا ہو گئی ہے اور اب وہ تائید الہی کا سلوک نہیں ہو رہا۔یہ وہم تھا اس خواب کے ذریعے بتا دیا گیا کہ خدا کی رحمت جدا نہیں ہو گی اس نے تو خدا کے فضل سے ہمارے ساتھ جگہ بنانی ہی بنانی ہے۔“ خوشخبری الفضل 14 فروری 1984 ء - و روزنامه الفضل ربوه 23 مئی 2005، صفحہ 11 تا 12 ) 324