مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 30
گے تو پھر اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں ہلاک کرنا چاہے گی تو نہیں کر سکے گی اور تمہارے مقابل میں بالکل ناکام و نامراد رہے گی جیسا کہ مشہور ہے اسفند یار ایسا تھا کہ اس پر تیر اثر نہ کرتا تھا۔تمہارے لئے ایسی حالت خلافت کی وجہ سے پیدا ہوسکتی ہے۔جب تک تم اس کو پکڑے رکھو گے تو کبھی دنیا کی مخالفت تم پر اثر نہ کر سکے بیشک افراد مریں گے، مشکلات آئیں گی، تکالیف پہنچیں گی مگر جماعت کبھی تباہ نہ ہو گی بلکہ دن بہ دن بڑھے گی اور اس وقت تم میں سے کسی کا دشمنوں کے ہاتھوں مرنا ایسا ہو گا جیسا کہ مشہور ہے کہ اگر ایک دیو کتا ہے تو ہزاروں پیدا ہو جاتے ہیں تم میں سے اگر ایک مارا جائے گا تو اس کی بجائے ہزاروں اس کے خون کے قطروں سے پیدا ہو جائیں گے۔“ ( حقائق القرآن مجموعه القرآن حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ عنہ سورۃ النور زیر آیت استخلاف صفحہ 73) حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَاَطِيْعُوا وَ أَنْفِقُوا خَيْرًا لِانْفُسِكُمْ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (التغابن : 17) یعنی جتنا ہو سکے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اور اپنے مال اس کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔تمہاری جانوں کے لئے بہتر ہے اور جو لوگ اپنے دل کے بخل سے بچائے جاتے ہیں وہی کامیاب ہونے والے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے اپنی طاقت، قوت اور استعداد کے مطابق تقویٰ یہ ہے کہ وَاسْمَعُوا وَ اَطِيْعُوا (بخارى كتاب الجهاد و السير باب السمع والطاعة) کہ اللہ تعالیٰ کی آواز سنو اور لبیک کہتے ہو۔ہوئے اس کی اطاعت کرو اگر تم تقویٰ کی راہوں پر چل کر سَمْعًا وَّ طَاعَة کا نمونہ پیش کرو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ اس بات کی بھی توفیق دے گا کہ تم اپنی جانوں، مالوں اور عزتوں سب کو اس کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اس طرح تمہیں دل کے بخل سے محفوظ کر لیا جائے گا یہی کامیابی کا راز 66 حضرت (خطبات ناصر جلد 1 صفحہ 244۔245 خطبہ جمعہ 6 مئی 1966 ء) ت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اسی طرح آپ نے خلافت کی حفاظت کا جو وعدہ کیا ہوا ہے اس میں بھی یہ بات داخل ہے کہ خلافت کے مزاج کو نہ بگڑنے دیں۔خلافت کے مزاج کو بگاڑنے کی ہرگز کوشش نہ کریں ہمیشہ اس کے تابع رہیں، ہر حالت میں امام کے پیچھے چلیں۔امام آپ کی رہنمائی کے لئے بنایا گیا ہے اس لئے کسی وقت بھی اس سے آگے نہ بڑھیں۔" الفضل 11 فروری 1994ء) حضرت خلیفۃ الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یوم خلافت کے حوالے سے جماعت احمدیہ راولپنڈی کے نام پیغام میں فرمایا:۔”آپ میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ دعاؤں پر بہت زور دے اور اپنے آپ کو خلافت سے وابستہ رکھے اور یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھے کہ اس کی ساری ترقیات اور کامیابیوں کا راز خلافت سے وابستگی میں ہی ہے۔وہی شخص سلسلہ کا مفید وجود بن سکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ دنیا بھر کے علوم جانتا ہو اس کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔جب تک آپ کی عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت رہیں گی اور آپ اپنے امام کے پیچھے پیچھے اس کے اشاروں پر چلتے رہیں گے اللہ تعالی کی مدد اور نصرت آپ کو حاصل رہے گی۔“ 30