مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 29
”یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے اکثروں کی گردنیں میرے سامنے جھکا دیں۔میں کیونکر تمہاری خاطر خدا تعالیٰ کے حکم کو رد کردوں مجھے اس نے اسی طرح خلیفہ بنایا جس طرح پہلوں کو بنایا تھا۔گو میں حیران ہوں کہ میرے جیسا نالائق انسان اسے کیونکر پسند آ گیا؟ لیکن جو کچھ بھی ہو اس نے مجھے پسند کر لیا اور اب کوئی انسان اس کرتہ کو مجھ سے نہیں اُتار سکتا جو اس نے مجھے پہنایا ہے یہ خدا کی دین ہے اور کون سا انسان ہے جو خدا کے عطیہ کو مجھ سے چھین لے؟ خدا تعالیٰ میرا مددگار ہوگا۔میں ضعیف ہوں مگر میرا مالک بڑا طاقت ور ہے، کمزور ہوں مگر میرا آقا بڑا توانا ہے، میں بلا اسباب ہوں لیکن میرا بادشاہ تمام اسبابوں کا خالق ہے میں بے مدد گار ہوں لیکن میرا رب فرشتوں کو میری مدد کے لئے نازل فرمائے گا۔“ (”کون ہے جو خدا کے کاموں کو روک سکے انوار العلوم جلد 2 صفحہ 15) حضرت مصلح الموعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یاد رکھو ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔ہزار دفعہ کو ئی شخص کہے کہ میں مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لاتا ہوں، ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتا ہوں، خدا کے حضور اس کے ان دعووں کی کوئی قیمت نہیں ہو گی جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ بسر نہیں کرتا اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہو سکتا۔“ د" میں " خطبه جمعه بیان فرمودہ 25 اکتوبر 1946 ء مطبوعه الفضل 15 نومبر 1946 - صفحہ 6) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ تم کتنے عقلمند اور مدبر ہو، اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک تمہاری عقلیں اور تدابیر میں خلافت کے ماتحت نہ ہوں اور تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو، ہرگز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔پس اگر تم اللہ تعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یاد رکھو اس کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اُٹھنا بیٹھنا، کھڑا ہونا اور چلنا، تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے افضل 4 ستمبر 1937ء - صفحہ 8) ماتحت ہو۔“ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خلافت کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اس وقت سب سکیموں، سبہ تجویزوں اور سب تدابیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ وقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائگاں ،تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (خطبه جمعه بیان فرموده 24 جنوری 1936ء مطبوعه الفضل 31 جنوری 1936ء - صفحہ 9) پس تم خوب یاد رکھو کہ تمہاری ترقیات خلافت ساتھ وابستہ ہیں اور جس دن تم نے اس کو نہ سمجھا اور اسے قائم نہ رکھا، وہی دن تمہاری ہلاکت اور تباہی کا دن ہو گا لیکن اگر تم اس کی حقیقت کو سمجھے رہو گے اور اسے قائم رکھو 29