مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 28
کثرت سے کرو اور دعاؤں میں لگے رہو، وحدت کو ہاتھ سے نہ دو، دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آ سکتا۔پس اس نعمت کا شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے۔لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيدَنَّكُمْ لیکن جو شکر نہیں کرتا وہ یاد رکھے إِنَّ عَذَابِی لَشَدِيدٌ (ابراہیم )۔“ دو 66 حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الحکم 24 جنوری 1903 جلد 7 نمبر 3 صفحہ 15) یہ اعتراض کرنا کہ خلافت حق دار کو نہیں پہنچی رافضیوں کا عقیدہ ہے۔اس سے توبہ کر لو اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے جس کو حقدار سمجھتا خلیفہ بنا دیا جو اس کی مخالفت کرتا ہے وہ جھوٹا ور فاسق ہے فرشتے بن کر اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرو ابلیس نہ بنو۔“ اطاعت کے معافی: سید نا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ( بدر 4 جولائی 1912 ء جلد 12 نمبر 1۔صفحہ 7) پھر یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لفظ اَلطَّاعَةُ کے معنی محض فرمانبرداری نہیں بلکہ ایسی فرمانبرداری کے ہیں جو بشاشت قلب کے ساتھ کی جائے اور اس میں نفس کی مرضی اور پسندیدگی بھی پائی جاتی ہو۔۔۔طوع کے مقابل پر گرہ کا لفظ بولا جاتا ہے۔جس کے معنے ہیں: مَا أَكْرَهُتَ نَفْسَكَ عَلَيْهِ (اقرب) کہ انسان کوئی کام دل سے نہیں کرنا چاہتا بلکہ بیرونی دباؤ کی وجہ سے اسے سرانجام دینے پر مجبور ہو جاتا ہے اور یہ صاف ظاہر ہے کہ ایسے کام میں بشاشت پیدا نہ ہو گی الغرض الطَّاعَة کے معنی وضع لغت کے لحاظ سے خالی فرمانبرداری کے نہیں بلکہ اس فرمانبرداری کے ہیں جو پسند دیدگی اور خوشی سے ہو نہ کہ جبر اور اکراہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔پس اطاعت کے اس مفہوم کے لحاظ سے لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِيَ دِینِ کے معنی یہ ہوں گے کہ اے منکر و تمہارا اطاعت کا مفہوم اور ہے اور میرا اور ہے یعنی تم صرف ظاہری آداب بجا لانے کو اطاعت سمجھ رہے ہو اور میں اطاعت صرف اسے کہتا ہوں کہ بشاشت قلب سے اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لائے جائیں اور ان کو بجا لاتے ہوئے انسان کو لذت اور سرور محسوس ہو۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ( تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 441-442) اگر ایک امام اور خلیفہ کی موجودگی میں انسان یہ سمجھے کہ ہمارے لئے کسی آزاد تدبیر اور مظاہرہ کی ضرورت ہے تو پھر خلیفہ کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔امام اور خلیفہ کی ضرورت یہی ہے کہ ہر قدم جو مومن اٹھاتا ہے اس کے پیچھے اٹھا تا ہے، اپنی مرضی اور خواہشات کو اس کی مرضی اور خواہشات کے تابع کرتا ہے، اپنی تدبیروں کو اس کی تدبیروں کے تابع کرتا ہے، اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے، اپنے ارادوں کو اس کے ارادوں کے تابع کرتا ہے، اپنی آرزوؤں کو اس کی آرزوؤں کے تابع کرتا ہے، اپنے سامانوں کو اس کے سامانوں کے تابع کرتا ہے۔اگر اس مقام پر مومن کھڑے ہو جائیں تو ان کے لئے کامیابی اور فتح یقینی ہے۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (خطبه جمعه بیان فرموده 27 اگست 1937ء افضل 4 ستمبر 1937 - صفحہ 4-3) 28