مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 277
23 ستمبر 1924ء کو ویمبلے کا نفرنس میں حضور رضی اللہ عنہ کا بے نظیر مضمون پڑھا گیا جس نے سلسلہ احمدیہ کی شہرت کو چار چاند لگا دیئے۔حضور رضی اللہ عنہ کا مضمون حضور رضی اللہ عنہ کے حکم سے حضرت چودھری ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ عنہ نے پڑھا۔یہ مضمون ایک گھنٹہ تک جاری رہا جس نے سامعین پر وجد کی سی کیفیت طاری کر دی اس مضمون میں حضور رضی اللہ عنہ نے غلامی، سود اور تعدد ازدواج وغیرہ مسائل کو نہایت واضح طور پر بیان فرمایا تھا۔اسی مبارک دورہ یورپ میں حضور انور ( حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ) نے 19 اکتوبر 1924 ء کو مسجد فضل لندن کا سنگ بنیاد اپنے بابرکت ہاتھوں سے رکھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا دوسرا سفر یورپ (Europe): از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 422 تا 456) حضور انور ( حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ) پر قاتلانہ حملے کے بعد حضور ( حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ) کی صحت دن بہ دن خراب رہنے لگی چنانچہ مجلس مشاورت 1954ء میں مخلصین مخلصین جماعت نے مشورہ دیا تھا کہ حضور بغرض علاج امریکہ (U۔S۔A) تشریف لے جائیں اور ساتھ ہی ایک خاصی رقم اخراجات سفر کیلئے پیش کر دی چنانچہ جب ڈاکٹرز نے بھی علاج کے لئے یورپ یا امریکہ جانے کا مشورہ دیا تو حضور انور رضی اللہ عنہ نے استخارہ فرمایا۔رضائے الہی پا کر حضور انور رضی اللہ عنہ 23 مارچ 1955 ء کو یورپ کے سفر کے لئے تشریف لے گئے۔اپنے اس سفر یورپ کے دوران حضور انور رضی اللہ عنہ دمشق، ہالینڈ، جرمنی اور انگلینڈ میں تشریف لے گئے اور کئی ایک اہم لیکچرز ارشاد فرمائے۔لندن میں حضور انور رضی اللہ عنہ کا سب سے اہم کارنامہ مبلغین کی وہ عظیم الشان کانفرنس ہے جو تاریخ اسلام میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور جس کے نتیجہ میں غیر اسلامی دنیا میں تبلیغ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔قریباً چھ ماہ تک یورپ کے مختلف ممالک میں قیام کے بعد حضور انور رضی اللہ عنہ 26اگست 1955ء کو لندن سے کراچی کے لئے عازم سفر ہوئے 5 دسمبر 1955ء کو حضور رضی اللہ عنہ بخریت کراچی پہنچ گئے۔اسلام مشخص از تاریخ احمدیت جلد 17 صفحہ 542 تا 554) سفر جابه (نخله) یدنا حضرت خلیفة المسیح الثانی المصلح موعود رضی اللہ عنہ تقسیم ہند سے قبل تبدیلی آب و ہوا کے لئے اکثر پالم پور اور ڈلہوزی تشریف لے جایا کرتے تھے کیونکہ یہ پہاڑی مقامات ایک تو زیادہ بلندی پر واقع نہیں ہیں۔دوسرے ان کی آب و ہوا معتدل ہونے کے باعث حضور انور رضی اللہ عنہ کے مزاج مبارک کے موافق تھی۔قیام پاکستان کے بعد اس مقصد کے لئے مری میں خیبر لاج حاصل کی گئی مگر مری موزوں جگہ ثابت نہ ہوئی اس لئے حضور کی ہدایت پر جابہ ضلع سرگودہا (حال ضلع خوشاب) کے قریب اس سال کے شروع میں ”نخلہ“ کے نام سے ایک اضافی بستی کی بنیاد رکھی گئی نخلہ کی زمین نواب مسعود احمد خاں صاحب کی ملکیت تھی۔تعمیرات سے پہلے اس جگہ دو چھولداریاں نصب کی گئیں جو سرگودہا سے کرائے پر حاصل کی گئی تھیں۔سب سے پہلے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی کوٹھی کی بنیاد رکھی گئی جس کی ابتدا میں بعض مقامی لوگوں نے مخالفت کی مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ روک غیر احمدی شرفا کی مداخلت سے بہت جلد دور ہو گئی۔یہ کوٹھی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب چیئر مین صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی نگرانی میں 1956 ء کے وسط آخر میں نہایت تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچی۔کوٹھی کا نقشہ سید سردار حسین شاہ صاحب نے تیار کیا اور اس کے حسابات کی خدمت مکرم ملک فضل عمر صاحب مولوی فاضل نے سر انجام دی۔مخلہ میں حضور رضی اللہ عنہ کی کوٹھی کے علاوہ مندرجہ ذیل عمارات بھی تعمیر کی گئیں: 277