مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 265 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 265

دینی ہے کہ اس کا کیا حال ہے۔میں نے کبوتر کو تین مرتبہ شیمپو کیا تا کہ اس کے پروں سے تیل صاف ہو جائے اور پھر اس کو اچھی طرح سے خشک کیا۔اس کے بعد اس کو میں نے تین دن کے لئے اپنے دفتر میں رکھا اور کھلایا پلایا۔تین دن بعد جب اسے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے دیکھتے ہی فرمایا: ”کیا یہ وہی کبوتر ہے؟ آپ نے تو اسے مکمل طور پر بدل دیا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ آپ آج رات اسے فرینچ ملاقات پروگرام میں لے کر آئیں اور اس پر ایک مختصر ڈاکومنٹری بنائیں کہ اس کو کیا ہوا تھا اور کس طرح اس کی دیکھ بھال کی گئی چنانچہ اس رات فریج ملاقات پروگرام میں وہ خوش قسمت کبوتر star of the show' بن گیا۔اس پروگرام میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کو کبوتر کی ساری کہانی سنائی گئی اور بعد ازاں اس کی مختصر ڈاکو منٹری بنا کر MTA دکھائی گئی۔اس کے بعد کبوتر کو آزاد کر دیا گیا مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ کس قدر خوش قسمت ہے جو حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ کی شفقت بھری توجہ کو مورد بنا۔“ ہے۔66 پر (ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 148 مارچ ، اپریل 2004 ء ) مکرم احسان اللہ صاحب بیان کرتے ہیں: ”جب حضور رحمہ اللہ بیمار تھے ان ایام میں وہاں ایک لومڑی آتی تھی جو بڑی دبلی پتلی تھی۔حضور رحمہ اللہ نے دیکھا تو فرمایا کہ اس لومڑی کا خیال رکھا کریں۔چنانچہ حضور رحمہ اللہ کے پر شفقت ارشاد کی تعمیل میں ہم اسے سالن اور روٹی وغیرہ ڈالتے تھے لیکن وہ اسے کھاتی نہیں تھی۔ایک دن میں نے اسے کچا گوشت ڈالا تو اس نے کھا لیا۔اس کے بعد ہم روزانہ اسے کچا گوشت ہی ڈالا کرتے تھے جسے وہ بڑے شوق سے کھا لیتی تھی۔شفقت کا یہ سلسلہ مستقل طور پر جاری ہو گیا تو اسے دیکھ دیکھ کر چھ سات لومڑیاں وہاں آنا شروع ہو گئیں اور انہیں با قاعدہ گوشت ڈالتے تھے اور حضور انور رحمہ اللہ باقاعدگی کے ساتھ پوچھتے کہ آج کتنی لومڑیاں آئیں تھیں اور انہیں کتنا گوشت ڈالا تھا۔میری اس لومڑیوں کو گوشت ڈالنے کی ترکیب پر حضور انور رحمہ اللہ نے پیار سے میرا نام لومڑی سپیشلسٹ (Specialist) “ رکھ دیا۔چنانچہ وہ لومڑی نہایت کمزور تھی ان لازوال شفقتوں سے وافر حصہ پاکر بڑی موٹی تازی ہوگئی۔“ سیرت حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز: (سیدنا طاہر نمبر صفحہ 317 ) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا نام حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ہے۔حضرت خلیفہ الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب اور صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کے ہاں 15 ستمبر 1950ء کو ربوہ میں پیدا ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے پوتے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑپوتے اور حضرت مصلح الموعود رضی اللہ عنہ کے نواسے ہیں۔حضرت خلیفة اصیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز 22 / اپریل 2003 ء کو لندن میں جماعت احمدیہ کے پانچویں خلیفہ منتخب ہوئے۔خدا تعالیٰ آپ کی عمر صحت اور کاموں میں برکت دے۔آمین احباب جماعت سے تعلق: 265