مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 266
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اب افریقہ کے دورے میں گزشتہ سال کی طرح اس دفعہ بھی مختلف ملکوں میں جاکر میں نے احمدیوں کے اخلاص و وفا کے جو نظارے دیکھے ہیں ان کی ایک تفصیل ہے۔بعض محسوس کئے جاسکتے ہیں، بیان نہیں کئے جاسکتے۔تنزانیہ کے ایک دور دراز علاقے میں جہاں سڑکیں اتنی خراب ہیں کہ ایک شہر سے دوسرے شہر تک میں چھ سات کلومیٹر کا سفر بعض دفعہ آٹھ دس دن میں طے ہوتا ہے۔ہم اس علاقہ کے ایک نسبتاً بڑے قصبے میں جہاں چھوٹا سا ائر پورٹ ہے، چھوٹے جہاز کے ذریعہ سے گئے تھے تو وہاں لوگ اردگرد سے بھی ملنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ان میں جوش قابل دید تھا۔بہت جگہوں پر وہاں ایم ٹی اے کی سہولت بھی نہیں ہے۔اس لئے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ایم ٹی اے دیکھ کر اور تصویریں دیکھ کر یہ تعلق پیدا ہو گیا تھا۔یہ جوش بتا تا تھا کہ خلافت سے ان نیک عمل کرنے والوں کو ایک خاص پیار اور تعلق ہے۔جن سے مصافحے ہوئے ان کے جذبات کو بیان کرنا بھی میرے لئے مشکل ہے۔ایک مثال دیتا ہوں۔مصافحے کے لئے لوگ لائن میں تھے ایک شخص نے ہاتھ بڑھایا اور ساتھ ہی جذبات سے مغلوب ہو کر رونا شروع کر دیا۔کیا تعلق، یہ محبت کا اظہار، ملوک یا بادشاہوں کے ساتھ ہوتا ہے یا خدا کی طرف سے دلوں میں پیدا کیا جاتا ہے۔ایک صاحب پرانے احمدی جو فالج کی وجہ سے بہت بیمار تھے، ضد کر کے 40-50 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے مجھ سے ملنے کے لئے آئے اور فالج سے ان کے ہاتھ مڑ گئے تھے، ان مڑے ہوئے ہاتھوں سے اس مضبوطی سے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا کہ مجھے لگا کہ جس طرح شکنجے میں ہاتھ آگیا ہے۔کیا اتنا ترڈ د کوئی دنیا داری کے لئے کرتا ہے۔غرض کہ جذبات کی مختلف کیفیات تھیں۔یہی حال کینیا کے دور دراز کے علاقوں کے احمدیوں میں تھا اور یہی جذبات یوگنڈا کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے احمدیوں کے تھے۔جو رپورٹس شائع ہوں گی ان کو پڑھ لیں خود ہی پتہ چل جائے گا کہ خلافت کے لئے لوگوں میں کس قدر اخلاص ہے۔اور انشاء اللہ تعالیٰ یہی نیک عمل اور اخلاص جماعت احمدیہ میں ہمیشہ استحکام اور قیام خلافت کا باعث بنتا چلا جائے گا۔“ (خطبه جمعه فرموده 5 مئی 2005 ء ) جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت مضبوط ہے اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہے۔افریقہ میں بھی میں دورہ پر گیا ہوں ایسے لوگ جنہوں نے کبھی دیکھا نہیں تھا اس طرح ٹوٹ کر انہوں نے محبت کا اظہار کیا ہے جس طرح برسوں کے بچھڑے ملے ہوتے ہیں یہ سب کیا ہے؟ جس طرح ان کے چہروں پر خوشی کا اظہار میں نے دیکھا ہے، یہ سب کیا ہے؟ جس طرح سفر کی صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کر کے وہ لوگ آئے، یہ سب کچھ کیا ہے؟ کیا دنیا دکھاوے کے لیے یہ سب خلافت سے محبت ہے جوان دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔تو جس چیز کو اللہ تعالیٰ پیدا کر رہا ہے وہ انسانی کوششوں سے کہاں نکل سکتی ہے۔جتنا مرضی کوئی چاہے زور لگا لے۔عورتوں، بچوں ، بوڑھوں کو باقاعدہ میں نے آنسوؤں سے روتے دیکھا ہے۔تو یہ سب محبت ہی ہے جو خلافت کی ان کے دلوں میں قائم ہے۔بچے اس طرح بعض دفعہ دائیں بائیں سے نکل کے سیکیورٹی کی توڑتے ہوئے آکے چمٹ جاتے تھے۔وہ محبت تو اللہ تعالیٰ نے بچوں کے دل میں پیدا کی ہے، کسی کے کہنے پہ تو نہیں آسکتے۔اور پھر ان کے ماں باپ اور دوسرے اردگرد لوگ جو اکٹھے ہوتے تھے ان کی محبت بھی دیکھنے والی ہوتی تھی۔پھر اس بچے کو اس لیے وہ پیار کرتے تھے کہ تم خلیفہ وقت سے چمٹ کے اور اس سے پیار لے کر آئے ہو۔“ الفضل انٹر نیشنل 4 تا 10 جون 2004ء) 266