مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 264
(ماهنامه خالد سیدنا طاہر نمبر 2004ء صفحہ 343-344 ) مکرم چودھری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ تحریک جدید ربوہ بیان کرتے ہیں کہ 28 اپریل1984ء کو مسجد مبارک ربوہ میں ایک نماز کے بعد حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔میں نے آپ کو یہاں اس لئے نہیں بٹھایا کہ میں نے کوئی تقریر کرنی ہے۔میں نے آپ کو دیکھنے کے لئے بٹھایا ہے۔میری آنکھیں آپ کو دیکھنے سے ٹھنڈک محسوس کرتی ہیں۔میرے دل کو تسکین ملتی ہے۔مجھے آپ سے ہے، عشق ہے۔خدا کی قسم کسی ماں کو بھی اس قدر پیار نہیں ہو سکتا۔“ (ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر 2004 ) ایک موقع پر فرمایا: راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو پس یہ پہلو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی فکر کریں احتیاط سے چلیں خیر و عافیت سے پہنچیں اور مجھے کوئی دکھ دینے والی خبر نہ بعد میں آئے کیونکہ آپ کو اس بات کا علم نہیں کہ آپ میں سے جو بھی تکلیف اٹھاتا ہے اس کی مجھے کتنی تکلیف پہنچتی ہے۔یہی خلافت کا حقیقی مضمون ہے ایک خلیفہ کے دل میں ساری جماعت کے دل دھڑک رہے ہوتے ہیں اور ساری جماعت کی تکلیفیں اس کے دل کو تکلیف پہنچا رہی ہوتی ہیں اور اسی طرح سب جماعت کی خوشیاں بھی اس کے دل میں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔پس اللہ کرے ہمیشہ آپ کی خوشیاں پہنچتی رہیں اور آپ کی تکلیف مجھے نصیب نہ ہو کیونکہ آپ کی تکلیف میری تکلیف ہے۔اس اس آخری نصیحت کے بعد اب میں آپ کو اپنے ساتھ دعا میں شامل ہونے کی تحریک کر تا ہوں۔}} مشعل راہ جلد 3 صفحه 687 ) ہمدردی خلق: د مکرم عبدالغنی جہانگیر صاحب نے بیت الفضل لندن کے ایک مستقل رہائشی کبوتر کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا که میجر صاحب نے ایک روز مجھے ایک عجیب و غریب کیس سے نپٹنے کے لیے بلایا اور کہا کہ فوراً بیت الفضل کے ویٹنگ روم میں پہنچوں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں ایک کبوتر میرا انتظار کر رہا تھا۔میجر صاحب نے بتایا کہ اس کبوتر کو لنگر خانے اور بیت الفضل کے کچن کے برتنوں میں چھلانگ لگا کر بچی کچھی چیزیں کھانے کی عادت ہے مگر اس مرتبہ اس نے بدقسمتی سے چھلانگ لگانے سے پہلے برتن میں دیکھا نہیں، جب کہ برتن صفائی کے لئے پانی اور تیل سے بھرا ہوا رکھا تھا۔اس وجہ سے کبوتر بے چارا تیل سے لت پت ہو گیا اور چونکہ اپنے پر خشک نہ کر سکتا تھا اس لئے اُڑنے کے قابل نہ رہا اور اسی حالت میں گھسٹتے اور ہوئے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کے گھر کے دروازے تک پہنچا اور وہاں کونے میں بیٹھ کر کانپنے لگا۔مغرب کی نماز سے واپس آتے ہوئے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسے اچانک دیکھا اور میجر صاحب سے فرمایا کہ ابھی اس کا کچھ بندوبست کریں۔میجر صاحب نے یہ عرض کیا کہ میں (جہانگیر صاحب۔ناقل ) اس کی دیکھ بھال کروں اور ساتھ ہی مجھے یہ بھی بتادیا کہ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے اس کی رپورٹ بھی تے 264