مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 263 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 263

منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے پہلے خطبہ میں فرمایا: ”یہ کوئی معمولی بوجھ نہیں۔میرا سارا وجود اس کے تصور سے کانپ رہا ہے کہ میرا رب مجھ سے راضی رہے۔اس وقت تک زندہ رکھے جس وقت تک میں اس کی رضا پر چلنے کا اہل ہوں اور توفیق عطا فرمائے کہ ایک لمحہ بھی اس کی رضا کے بغیر میں نہ سوچ سکوں، نہ کر سکوں۔وہم و گمان بھی مجھے اس کا پیدا نہ ہو۔سب کے حقوق کا خیال رکھوں اور انصارف کو قائم کروں جیسا کہ اسلام کا تقاضا ہے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ انصاف کے قیام کے بغیر احسان کا قیام بھی ممکن نہیں اور احسان کے قیام کے بغیر وہ جنت کا معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا جسے ایساء ذِي الْقُرْبی کا نام دیا گیا ہے اس لئے سب دعائیں کریں۔پیشتر اس کے کہ میں بیعت کا آغاز کروں میں چاہتا ہوں کہ حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب سے درخواست کروں کہ رُفقا کی نمائندگی میں آگے تشریف لاکر پہلا ہاتھ وہ رکھیں۔میری خواہش ہے، میرے دل کی تمنا ہے کہ وہ ہاتھ جس نے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھوں کو چھوا ہے وہ پہلا ہاتھ ہو جو میرے ہاتھ پر آئے۔حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب سے میں درخواست کرتا ہوں کہ وہ تشریف لائیں۔اس کے بعد بیعت کا آغاز ہوگا۔“ (روز نامه الفضل مؤرخہ 19 جون 1982 ء) مکرم ڈاکٹر مسعود الحسن نوری صاحب تحریر فرماتے ہیں: جس روز حضور رحمہ اللہ تعالیٰ ہسپتال سے گھر تشریف لائے اسی رات میں نے واپس پاکستان آنا تھا تو میں اجازت لینے کے لئے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضور نے فرمایا ذرا بیٹھو میں نماز ادا کرلوں تو میں نے کمرہ کے باہر بیٹھ کر انتظار کیا۔حضور نے دس پندرہ منٹ میں نماز پڑھی اس کے بعد جب میں حضور کے کمرہ میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ حضور رحمہ اللہ کا چہرہ سرخ تھا آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور آنکھوں میں وہ نمی تھی جس کو حضور لوگوں سے چھپایا کرتے تھے اور حضور کے چہرے پر جذبہ تشکر غالب تھا۔اس بات کا اندازہ شاید حضور کو خود تھا یا پھر دیکھنے والا بتا سکتا تھا اور میں اس بات کا اندازہ اس لئے بھی خاص طور پر کر سکتا تھا کہ ان بیماری کے دنوں میں کئی کئی گھنٹے حضور کے پاس خادم کے طور پر بیٹھا رہا اور اس بات کا کئی مرتبہ مشاہدہ کیا۔کیونکہ اس آپریشن کے وقت کی اور بعد کی تمام کیفیات میں حضور پر خدا کے شکر کا جذبہ غالب تھا اور دوسرا اس جماعت کیلئے شکر کا احساس بھی تھا جو دن رات تڑپ تڑپ کر اپنے پیارے آقا کیلئے دعائیں کر رہی تھی اور صدقات دے رہی تھی۔اس بات کا اتنا اثر حضور رحمہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا تھا کہ کئی مرتبہ کئی منٹ اور کئی کئی گھنٹے خاموش ہوتے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے کیونکہ آپ کی طبیعت میں یہ بات داخل تھی کہ جماعت کے لوگ ان کے لئے جو دعائیں کر رہے ہیں، جو صدقات دے رہے ہیں، تو اس کو وہ احسان سمجھتے تھے اور کسی معمولی سی بات پر بھی حضور بہت جلد احسان مند ہو جایا کرتے تھے۔ایک طرف تو جماعت کے کروڑوں لوگ جو حضور کے لئے مسلسل دعائیں کر رہے تھے اور دوسری طرف یہ عالم تھا کہ ان چاہنے والوں کی دعاؤں کے نتیجہ میں ان کے پیارے امام اپنے دل میں یہ احساس لئے پھرتے تھے کہ میرے چاہنے والوں کو میری وجہ سے کتنا دکھ پہنچ رہا ہے اور یہ احساس کہ دعا کرنے والا ایک نہیں، دو نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں ہیں تو حضور اس کا اپنے دل پر اور دماغ بہت زیادہ بوجھ لیتے تھے اور مجھے یہ گھبراہٹ ہوتی تھی کہ میڈیکل سائنس کے حوالہ سے اگر سوچا جائے کہ ایک انسان اپنے دماغ اور دل پر اس بیماری کی حالت میں اتنا بوجھ ڈالے تو اگر خدا کا فضل نہ ہو اور وہ نہ بچائے تو انسان کا دماغ ، دل یا اعضا shatter ہو جائیں۔“ 263