مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 262 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 262

پورٹ نہیں پر لکھواتے تو خاکسار قرآن کریم کے ساتھ گاڑی کے پاس کھڑا تھا۔مجھے دیکھ کر فرمایا: اب آرام کر لو۔کل کام کریں گے۔چنانچہ اگلے تین دن اسی طرح ترجمہ کا کام کرتے ہوئے گزرے۔آخری دن جس دن ماریشس سے لندن واپسی کیلئے روانگی تھی، حضور انور جب اپنی رہائش گاہ سے ائر پورٹ کیلئے روانہ ہوئے تو فرمایا ترجمہ کیلئے گاڑی میں آجاؤ۔خاکسار حاضر ہو گیا۔ائر پورٹ تک کا سفر قریباً ایک گھنٹہ کا تھا۔اس دوران ترجمہ لکھواتے رہے۔ائر VIP لاؤنج میں پہنچے تو فرمایا: ہم دونوں ایک جگہ الگ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور ترجمہ کا کام جاری رکھتے ہیں۔چنانچہ ایک کونے میں جگہ کا انتخاب کر کے حضور انور وہاں تشریف فرما ہوئے اور ترجمہ کہ رہے۔یہاں بھی قریباً ایک گھنٹہ سے زائد ترجمہ کا کام کیا۔جب جہاز کی روانگی میں 10 منٹ باقی رہ گئے تو متعلقہ آفیسرز نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ تشریف لے آئیں۔جہاز میں داخل ہونے کے دوران آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ اگر کوئی سیٹ خالی ہوئی میں آپ کو بلالوں گا اس لئے تیار رہیں۔یہ کہہ کر حضور فرسٹ کلاس میں تشریف لے گئے۔یہ فلائٹ جو ماریشس سے فرانس تک تھی 13,12 گھنٹے کی فلائٹ تھی اور مسلسل تین دنوں سے لکھائی کا کام کرنے کی وجہ سے انگلیاں بہت دکھ رہی تھیں۔صرف یہی خوف تھا کہ ایسا نہ ہو کہ حضور ” لکھوائیں اور میں لکھ نہ سکوں۔دوسری طرف خوش نصیبی، سعادت اور برکت تھی جو ہر فکر اور پریشانی اور تکلیف پر غالب تھی۔چنانچہ جہاز کی روانگی سے قریباً ایک گھنٹہ کے بعد حضور نیچے ہمارے حصہ میں جہاں ممبران قافلہ بیٹھے ہوئے تھے تشریف لائے اور مجھے دیکھ کر بڑے پیار سے فرمایا کہ میرے ساتھ سیٹ خالی ہے۔13 گھنٹے کی مسلسل فلائیٹ اور تھکا دینے والے سفر کے بعد جہاز فرانس کے دارالحکومت پیرس کے انٹرنیشنل ائر پورٹ پر اترا۔یہاں سے لندن روانگی کیلئے ایک دوسرے ایئر پورٹ پر جاکر فلائٹ لینی تھی۔وقت قریباً فجر سے پہلے کا تھا اور دوسرے ائر پورٹ پر پہنچنے کیلئے 40 منٹ کا رستہ تھا۔جب ایئر پورٹ سے باہر نکل کر گاڑیوں میں بیٹھنے لگے تو فرمایا: قرآن کریم لے کر آجائیں۔خاکسار حاضر ہو گیا۔گاڑی کی اندرونی لائٹیں جلالیں اور دوسرے ایئر پورٹ پہنچنے تک ترجمہ لکھواتے رہے۔جب ائر پورٹ پر پہنچے تو یہاں سے لندن کیلئے جہاز کی روانگی میں ابھی ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھا۔یہاں جماعت فرانس نے حضور انور اور ممبران قافلہ کیلئے ناشتہ کا انتظام کیا ہوا تھا۔فرمانے لگے ان سب کو ناشتہ کرنے دو ہم ترجمہ کا کام کرتے ہیں۔ناشتہ لندن جاکر کر لیں گے۔چنانچہ ایک بینچ پر حضور انور بیٹھ گئے اور ڈیڑھ گھنٹہ مسلسل ترجمہ کا کام کیا۔مسافر آگے پیچھے، دائیں بائیں سے گزرتے رہے لیکن ہر چیز سے بے خبر مسلسل ترجمہ لکھواتے رہے۔اب جہاز کی روانگی کا وقت تھا۔فرمایا: جہاز میں میرے ساتھ جگہ خالی ہوئی تو وہاں بیٹھ جانا۔چونکہ یہ ایک گھنٹہ سے کم وقت کی فلائیٹ تھی جس کی وجہ سے جہاز بڑا نہیں تھا۔یہاں اکانومی کے مسافروں کو بھی اپنی سیٹوں تک پہنچنے کیلئے کلب اپر کلاس کے حصہ سے گزر کر جانا پڑتا تھا۔حضور انور پہلے تشریف لے جا کر بیٹھ چکے تھے۔جب بعد میں ہم ممبران قافلہ داخل ہوئے تو میں نے دیکھا کہ دائیں بائیں کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔چنانچہ حضور کے پاس سے گزر کر جب پچھلے حصہ کی طرف جانے لگے تو آپ مسکرائے اور فرمایا۔اب انشاء اللہ باقی کام لندن چل کر۔چنانچہ پھر لندن پہنچ کر یہ کام مسلسل چار سال تک جاری رہا۔“ احباب جماعت سے تعلق : (ماہنامہ خالد سیدنا طاہر نمبر صفحہ 87 تا 90 مارچ اپریل 2004 ) 262