مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 256 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 256

ہمدردی خلق: دو مولوی غلام باری صاحب سیف لکھتے ہیں: ’ جامعہ کے ہوٹل میں دوسرے ہوٹلوں کی طرح ایک وقت دال پکتی اور شام کے کھانے میں اکثر گوشت ملتا۔میرا گاؤں قادیان سے سات میل کے فاصلے پر تھا۔اکثر جمعرات کی شام کو گاؤں چلا جاتا اور جمعہ کی شام کو واپس آجاتا۔شام کو ہوٹل میں کھانے کی میز پر بیٹھا تو آج کوئی نئی چیز پکی ہوئی تھی پرندوں کا گوشت تھا جو حضور (حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے شکار کر کے طلبا جامعہ کے لئے بھجوائے تھے۔“ مکرم وقیع الزمان صاحب لکھتے ہیں: (حیات ناصر صفحہ 130-131 ) ایک پروفیسر صاحب مجھے پسند نہ فرماتے تھے۔ایک امتحان کے بعد انہوں نے میرا پرچہ لیا اور میرے لکھے ہوئے جوابات کو تضحیک کے انداز میں کلاس کے سامنے پڑھ پڑھ کر سنانا شروع کر دیا۔میں شہری ماحول سے گیا ہوا طالب علم تھا، مجھے ناگوار گزرا۔قادیان کی درس گاہوں کے آداب سے پوری طرح واقف نہ تھا اس لئے احتجاجا کلاس سے اٹھ کر باہر آ گیا اور پرفیسر صاحب کے روکنے کے باوجود نہ رکا۔پروفیسر صاحب نے پرنسپل ( یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب) کے پاس میری شکایت کی۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کو میرے جواب سے تسلی نہ ہوئی اور سزا سنائی کہ پانچ روپے جرمانہ یا پانچ چھڑیاں تمام کالج کے سامنے لگائی جائیں۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ تو چند ماہ کے اندر ہی میرے وحشی قلب کو تسخیر کر چکے تھے۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کی موجودگی میں ایک عجیب سپردگی کا عالم طاری ہو جاتا تھا۔میں نے دریافت کیا کہ ان میں سے پہلی سزا کون سی ہے جرمانہ یا چھڑیاں۔جو بھی پہلی سزا ہو وہی مجھے منظور ہے۔ذرا سوچ کر فرمایا۔جرمانہ اصل سزا ہے اگر نہ دینا چاہو تو چھڑیاں کھانا ہوں گی۔جرمانہ فلاں دن تک جمع کروا دو۔اس زمانے میں ایک طالب علم کے لئے پانچ روپے خاصی بڑی رقم ہوتی تھی۔ہمارے ہوٹل کا سارے مہینے کا خوراک کا خرچ فی کس پانچ روپے کے قریب آتا تھا جرمانہ داخل کرنے کی تاریخ سے ایک دن قبل مسجد مبارک میں نماز عصر کے بعد مجھے ایک طرف بلایا اور پوچھا ” تم نے جرمانہ ادا کر دیا ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ابھی تک گھر سے منی آرڈر نہیں پہنچا ہے۔آنکھیں نیچی کر کے شیروانی کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور پانچ روپے کا نوٹ مجھے دیا کہ جاؤ کل جرمانہ ضرور داخل کر دو ورنہ سارے کالج کے سامنے چھڑیاں کھانا پڑیں گی اور ذرا رعایت نہ ہوگی۔”مت پوچھ کہ دل پہ کیا گزری سیرت حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ: (حیات ناصر صفحہ 133-134 ) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی کا نام حضرت صاحبزائرہ مرزا طاہر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرا الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفة أمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے۔حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی 10 جون 1982ء کو جماعت احمدیہ کے چوتھے خلیفہ منتخب ہوئے۔256