مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 255 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 255

استحکام کا وہ اعلیٰ نمونہ دکھانے کی توفیق عطا کی کہ آسمان کے فرشتے آپ پر ناز کرتے ہیں۔آسمانی ارواح کے سلام کا تحفہ قبول کرو۔تاریخ کے اوراق آپ کے نام کو عزت کے ساتھ یاد کریں گے اور آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں گی کہ آپ نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اس بندہ ضعیف اور ناکارہ کے ہاتھ پر متحد ہو کر عہد کیا ہے کہ قیام توحید اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے قیام اور غلبہ اسلام کے لئے جو تحریک اور جو جدوجہد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شروع کی تھی اور جسے حضرت مصلح موعود نے اپنے آرام کھو کر، اپنی زندگی کے ہر سکھ کو قربان کر کے اکناف عالم تک پھیلایا ہے آپ اس جدوجہد کو تیز سے تیز کرتے چلے جائیں گے۔تسكير۔قلب میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اور میں ہمیشہ آپ کی دعاؤں کا بھوکا ہوں۔میں نے آپ کے تی کے لئے ، آپ کے بار کو ہلکا کرنے کے لئے، آپ کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے، اپنے رب رحیم سے پورا یقین اور بھروسہ ہے اس پاک ذات پر کہ وہ میری اس التجا کو رد نہیں قبولیت دعا کا نشان مانگا ہے اور کرے گا۔“ مجھے (حیات ناصر صفحہ 374 ) حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی 1974 ء کے دلخراش حالات جو پاکستان کی جماعت پر گزرے ان کا ذکر کرتے " ہوئے فرماتے ہیں: علاوہ ازیں دنیوی لحاظ سے وہ تلخیاں جو دوستوں نے انفرادی طور پر محسوس کیں وہ ساری تلخیاں میرے سینے میں جمع ہوتی تھیں۔ان دنوں مجھ پر ایسی راتیں بھی آئیں کہ میں خدا کے فضل اور رحم سے ساری ساری رات ایک منٹ سوئے بغیر دوستوں کے لئے دعائیں کرتا رہا ہوں۔میں احباب سے یہ درخواست کر تا ہوں کہ وہ میرے لئے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مجھے ان ذمہ داریوں کو بطریق احسن ادا کرنے کی وفیق عطا کرے جو اس نے اس عاجز کے کندھوں پر ڈالی ہیں۔میں اور احباب جماعت مل کر ان ذمہ داریوں کو پورا کریں کیونکہ میرے اور احباب کے وجود میں میرے نزدیک کوئی امتیاز اور فرق نہیں ہے۔ہم دونوں امام جماعت اور جماعت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں اور ایک ہی چیز کے دو مختلف زاویے ہیں۔پس ہمیں اپنی زندگیوں میں الہی بشارتوں کے پورا ہونے کی جھلکیاں نظر آنے لگیں جو بشارتیں کہ مہدی علیہ السلام کے ذریعہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ کے دین کے غلبہ کی ہمیں ملی ہیں۔آمین روزنامه الفضل مؤرخہ 17 اپریل 1976 ء ) حضرت خلیفہ لمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: خلافت احمدیہ کی ایک صفت یہ ہے کہ اس خلافت کو اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ میں اس خلافت کے ذریعہ اپنی زبر دست قدرتوں کا زبردست ہاتھ دکھاؤں گا۔یہ خدا تعالیٰ کی تائید یافتہ خلافت ہے اسی خلافت کا ایک وجود ہے خلافت تو روح ہے اور اس کا جسم بھی ہے (یعنی جماعت احمد یہ جسم ہے) روح اور جسم مل کر ایک وجود بنتے ہیں۔اسی لئے خلافت کا یہ کام ہے کہ وہ جماعت کے دکھوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔خلیفہ وقت آپ کے لئے دعا کریں۔خلیفہ وقت پر بعض دفعہ ایسے حالات بھی آتے ہیں وہ ہفتوں ساری ساری رات آپ کے لئے دعائیں کر رہا ہوتا ہے جیسے 1974ء کے حالات میں دعائیں کرنی پڑیں۔میرا خیال ہے کہ دو مہینے تک میں بالکل سو نہیں سکا تھا کئی مہینے دعاؤں میں گزرے تھے۔“ خطاب خدام الاحمدیہ مؤرمحه 6 نومبر 1977 ء و الفضل 21 مئی 1978 صفحہ 4 ) 255