مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 254 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 254

254 قرآن کریم سے حل کر کے بتا دیتا ہوں۔کیونکہ اس کے اندر علوم کے دریا بہہ رہے ہیں۔“ ”ہمارا ایک بڑا ذہین بچہ تھا۔اس کو میں نے یہی مسئلہ سمجھایا اور بتایا کہ قرآن کریم کی رو سے اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کا ہر جلوہ ایک نئی شان کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔وہ ایٹم کے بارہ میں مزید ریسرچ کرنے کیلئے حکومت جرمنی کے وظیفے پر جرمنی گیا تو وہاں اس نے اپنے پروفیسروں سے کہا کہ وہ اس موضوع پر ریسرچ کرنا چاہتا ہے کہ تابکاری کا اثر گیہوں پر اور قسم کا ہے، مکئی پر اور قسم کا ہے اور چاول پر اور قسم کا ہے۔اس کے پروفیسر اسے کہنے لگے کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ ہمارے دماغ میں تو کبھی یہ بات نہیں آئی۔تمہارے دماغ میں آگئی۔اس نے بعد میں مجھے بتایا کہ آپ نے (ہر روز اللہ کی شان کا نیا جلوہ ظاہر ہوتا ہے) کے بارہ میں بتایا تھا اس کے مطابق میں نے اپنے پروفیسروں سے باتیں کیں۔بڑی مشکل سے اس موضوع پر ریسرچ کرنے کیلئے اجازت ملی اور جب ریسرچ کی تو یہی نتیجہ نکلا کہ اٹامک انرجی کا اثر گیہوں پر اور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور مکئی پر اور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے اور چاول پر اور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔چنانچہ اس کی اس ریسرچ پر اس کے جرمن پروفیسر بڑے حیران ہوئے۔یہ تو قرآن کریم کی تعلیم کی برکت تھی۔میں تو ایک واسطہ بن گیا۔قرآن کریم کی تعلیم سکھانے کا۔اللہ تعالیٰ کے فضل۔66 پرا (روز نامه الفضل 26 مئی 1990 قدرت ثانیہ نمبر) حضرت خلیفہ لمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 5 اگست 1966 ء میں فرمایا: کوئی پانچ ہفتہ کی بات ہے۔ابھی میں ربوہ سے باہر گھوڑا گلی کی طرف نہیں گیا تھا ایک دن جب میری آنکھ کھلی تو میں بہت دعاؤں میں مصروف تھا۔اس وقت عالم بیداری میں میں نے دیکھا کہ جس طرح بجلی چمکتی ہے اور زمین کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک روشن کر دیتی ہے۔اسی طرح ایک نور ظاہر ہوا اور اس نے زمین کو ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک ڈھانپ لیا پھر میں نے دیکھا کہ اس نور کا ایک حصہ جیسے جمع ہو رہا ہے۔پھر اس نے الفاظ کا جامہ پہنا اور ایک پر شوکت آواز فضاء میں گونجی جو اس نور سے ہی بنی ہوئی تھی اور وہ یہ تھی بُشرى لَكُمُ یہ ایک بڑی بشارت تھی، لیکن اس کا ظاہر کرنا ضروری نہ تھا۔ہاں دل میں ایک خلش تھی اور خواہش تھی کہ جس نور کو میں نے زمین کو ڈھانپتے ہوئے دیکھا ہے جس نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک زمین کو منور کر دیا ہے اس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے سے مجھے سمجھائے۔چنانچہ وہ ہمارا خدا جو بڑا ہی فضل کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے اس نے خود اس کی تعبیر اس طرح سمجھائی کہ گزشتہ پیر کے دن میں ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا اور تیسری رکعت کے قیام میں تھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کسی غیبی طاقت نے مجھے اپنے تصرف میں لے لیا ہے اور اس وقت مجھے یہ تفہیم ہوئی کہ جو نور میں نے اس دن دیکھا تھا وہ قرآن کا نور ہے جو تعلیم القرآن کی سکیم اور عارضی وقف کی سکیم کے ماتحت دنیا میں پھیلایا جارہا اللہ تعالیٰ اس مہم میں برکت ڈالے گا اور انوار قرآن اسی طرح زمین پر محیط ہو جائیں گے جس طرح اس ہے۔نور کو میں نے زمین پر محیط ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔“ (خطبات ناصر جلد 1 صفحہ 344 خطبہ 5 اگست 1966 ) احباب جماعت سے تعلق : ” اے جان سے زیادہ عزیز بھائیو! میرا ذرہ ذرہ آپ پر قربان کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے جماعتی اتحاد اور جماعتی