مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 251 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 251

اس کی اہل بھی نہیں ہے۔“ (حیات ناصر - صفحہ 173-174 ) خلافت کے زمانہ میں حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ نے کالج کا ذکر کرتے ہوئے خدا تعالی کی غیرت کا ایک واقعہ بیان فرمایا جو درج ذیل ہے: خدا تعالیٰ اس جماعت کے جو چھوٹے چھوٹے شعبے ہیں ان کے لئے بڑی غیرت دکھاتا ہے۔ابھی میرے طور پر دوبارہ سفر یورپ پر جانے سے پہلے اس خاندان کا ایک آدمی آیا جس کے بارہ میں بتایا کرتا ہوں کہ ان کا بڑا ہوشیار لڑکا تھا۔TOP کے نمبر لئے میٹرک میں۔ہمارا کالج لاہور میں تھا۔اس کے والد کو میں ذاتی جانتا تھا۔وہ لڑکا ہمارے کالج میں داخل ہو گیا۔میں نے بڑے پیار سے اسے داخل کیا۔وہ میرے دوست کا بچہ تھا جو سیالکوٹ کے ایک گاؤں کے رہنے والے اور زمیندار تھے۔اس کے چند رشتہ دار غیر مبائع تھے انہوں نے لڑکے کے باپ کا دماغ خراب کیا۔اس سے کہنے لگے اتنا ہوشیار بچہ Superior Services کے Competition میں یہ پاس ہونے والا نہیں۔تم یہ کیا ظلم کیا اپنے بچے کو جاکر احمدیوں کے کالج میں داخل کروا دیا۔جس وقت یہ انٹرویو میں جائے گا۔لوگوں کو یہ پتہ لگے گا یہ ٹی آئی کالج میں رہا ہے۔اس کو لیں گے نہیں اور یہ دنیوی طور پر ترقی نہیں کر سکے گا۔چنانچہ وہ میرے پاس آ گیا۔میں خالی پرنسپل نہیں تھا اس کا ست بھی تھا۔میرے دل میں اس کے بچے کے لئے بڑا پیار تھا۔میں نے اس کو پندرہ بیس منٹ تک سمجھایا کہ اپنی جان پر ظلم نہ کرو خدا تعالیٰ بڑی غیرت رکھتا ہے جماعت احمدیہ اور اس کے اداروں کے لئے۔تمہیں سزا مل جائے گی۔خیر وہ سمجھ گیا اور چلا گیا۔پھر انہوں نے بھڑکا یا پھر میرے پاس آ گیا۔پھر میں نے سمجھایا پھر چلا گیا۔پھر تیسری دفعہ جب آیا تو میں نے سمجھا اس کے باپ کو ٹھوکر نہ لگ جائے۔میں نے کہا ٹھیک ہے میں دستخط کر دیتا ہوں مگر تمہیں یہ بتا دیتا ہوں کہ یہ لڑکا جس کے متعلق تم یہ خواب دیکھ رہے ہو کہ سپیرئر سروسز کے امتحان میں پاس ہو کر ڈی سی بنے گا۔یہ ایف اے بھی نہیں پاس کر سکے گا۔اس نے مائیگریشن فارم پر کیا ہوا تھا اتنے اچھے نمبر تھے کہ ٹی آئی کالج سے گورنمنٹ کالج اسے بڑی خوشی سے لے لیتا۔چنانچہ میں نے اس کے فارم پر دستخط کئے اور وہ اسے لے کر چلے گئے۔پھر مجھے شرم کے مارے ملا بھی نہیں۔کوئی چار پانچ سال کے بعد مجھے ایک خط آیا جو شروع یہاں سے ہوتا تھا کہ میں آپ کو اپنا تعارف کرا دوں میں وہ لڑکا ہوں جس کے مائیگریشن فارم پر آپ نے دستخط کئے تو مجھے اور میرے باپ سے کہا تھا کہ میں ایف اے بھی نہیں پاس کر سکوں گا اور چار پانچ سال کا زمانہ ہو گیا ہے اور میں واقعی ایف اے پاس نہیں کر سکا پھر وہ تجارت میں لگ گیا۔اب پھر مجھے ایک خط آیا جو اسی سفر میں ملا کہ میں اس کا بیٹا ہوں جس کو آپ نے یہ کہا تھا کہ تو ایف اے پاس نہیں کر سکے گا۔پس خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کے ایک کالج اور اس کے ایک پرنسپل کے لئے اتنی غیرت دکھاتا ہے تو خلیفہ وقت کے لئے کتنی غیر دکھائے گا۔“ حیات ناصر صفحہ 166-167 ) قبولیت دعا: حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مغربی افریقہ سے ایک خاتون نے مجھے لکھا کہ ہمیں شادی کئے 37 برس ہو چکے ہیں لیکن ہم اولاد کی نعمت 251