مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 221
(Pounds Sterling کا نصرت جہاں ریزرو فنڈ قائم کرنے کی تحریک فرمائی۔اس تحریک کا مقصد افریقہ میں اسلام کا قیام استحکام تھا۔اس فنڈ سے افریقہ کے ممالک میں مزید تعلیمی سنٹر کھولے گئے۔اس کے علاوہ وہاں طبی مراکز بھی قائم ہوئے۔اسی فنڈ سے افریقہ کسی ملک میں ایک طاقتور ریڈیو سٹیشن قائم کرنے کی تجویز تھی۔اسی طرح ایک بڑا پریس مرکز میں قائم کرنے کی تجویز تھی جس کے ذریعہ مختلف زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم اور دوسرا اسلامی لٹریچر شائع کا جانا تھا۔دسویں تحریک صد سالہ احمد یہ جوبلی فنڈ سکیم“: و اللہ تعالیٰ کے منشا اور حکم کے مطابق جماعت احمدیہ کی بنیاد 1889ء میں رکھی گئی۔اس لحاظ سے 1989ء میں اس کے قیام پر سو سال پورے ہوئے اس سال سے جماعت کی دوسری صدی شروع ہوگی جو اللہ تعالیٰ کی بشارات کے مطابق انشاء اللہ علیہا سلام کی صدی ہو گی۔اس دوسری صدی کے استقبال کے لئے جس کے شروع ہونے میں ابھی سولہ سال باقی تھے حضرت اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے حسب منشاء الہی جلسہ سالانہ 1973ء کے موقع پر جماعت ہائے بیرون کی تربیت، اشاعت اسلام کے کام کو تیز سے تیز تر کرنے، غلبہ اسلام کے دن کو قریب سے قریب تک لانے اور نوع انسان کے دل خدا اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنے کیلئے ایک عظیم منصوبے کا اعلان فرمایا۔اس کے اغراض و مقاصد کی وضاحت اس منصوبے کی تکمیل کیلئے مالی قربانی کے سلسلہ میں حضور نے فرمایا: خليفة میں نے لصین جماعت سے آئندہ سولہ سال میں ڈھائی کروڑ روپیہ (2,50,00,000۔Rs) جمع کرنے کی اپیل کی تھی اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کر دیا تھا کہ انشاء اللہ یہ رقم پانچ کروڑ (5,00,00,000 ,۔RS) تک پہنچ جائے گی۔قرآن مجید کی عالمی اشاعت خلافت ثالثہ کا ایک اہم کارنامہ قرآن کریم کی وسیع اشاعت ہے۔اس غرض کے لئے حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے یورپ، امریکہ اور افریقہ کے مختلف ممالک میں ہوٹلوں میں قرآن کریم رکھنے کی ایک مہم جاری فرمائی جس کے نتیجہ میں درجنوں ممالک کے ہوٹلوں (Hotels) میں کلام پاک کے ہزار ہا نسخے رکھوائے گئے اور یہ سلسلہ برابر جاری اور ترقی پذیر ہے۔مسجد بشارت کی تاسیس: حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا ایک کارنامہ مسجد بشارت کا سنگ بنیاد رکھنا ہے۔چنانچہ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ جون تا اکتوبر 1980ء یورپ کے سفر کے دوران سپین (Spain) تشریف لے گئے اور قرطبہ (Cordoba) سے بائیس تئیس میل دور قصبہ میں پیدور آباد Pedro Abad) میں ایک مسجد کی بنیاد رکھی جو 44 سال بعد تعمیر ہونے والی سپین میں پہلی مسجد ہے۔(حیات ناصر جلد 1 صفحہ 441 446t- از محمود مجیب اصغر صاحب) 1974ء کا بر آشوب دور: 1974ء کا سال ایک عظیم ابتلا لے کر آیا۔اس وقت کی حکومت کی شہ پر پاکستان میں احمدیوں کے قتل و غارت اور لوٹ گھسوٹ کا بازار گرم رہا۔معاندین نے احمدیوں کی مساجد، قرآن کریم کے نسخے اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیوں کے گھر نذر آتش کئے، احمدیوں کی دکانیں اور کاروبار تباہ کر دیئے گئے ، فیکٹریوں کو آگ لگائی گئی، کئی احمدی شہید کر دیئے گئے، 221