مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 212
محمود۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کو خلیفہ نامزد کرنا نامزد کرنا چاہتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ نے اپنی علالت کے دوران حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کو اپنی جگہ امام الصلوۃ مقرر فرمایا۔یوں بھی حضرت خلیفۃ امسیح الاول رضی اللہ عنہ ان (یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ) کی بہت تعظیم و تکریم کرتے تھے اور برملا اس امر کا اظہار کرتے تھے کہ اپنے تقویٰ و طہارت، اطاعت امام اور تعلق باللہ میں ان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔جب حضرت خلیفۃ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کی علالت کا سلسلہ طویل ہو گیا تو منکرین خلافت نے گمنام ٹریکٹ لاہور سے ، شائع کئے جن میں اس امر کا اظہار کیا گیا کہ قادیان میں پیر پرستی شروع ہو گئی ہے اور مرزا محمود احمد صاحب کو خلافت کی گدی پر بٹھانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھا گیا کہ ایک عالم دین نے ایڈیٹر پیغام صلح اور دوسرے ے متعلقین کو ذلیل و خوار کرنا شروع کر دیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیت متعلق تحریر کیا کہ وہ بزرگان سلسلہ (مراد خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کو بدنام کر رہے ہیں اسی طرح ان لوگوں نے حضرت خلیفۃ اسیج اول رضی اللہ عنہ کی دو مرتبہ بیعت اطاعت کرنے کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ کو بدنام کرنے اور خلافت کے نظام کو مٹانے کی پوری کوشش کی لیکن وہ اپنے مذموم ارادوں میں ناکام رہے۔حضرت خلیفۃ اصبح الاول رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا یہی کارنامہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے خلافت کے نظام کو مضبوطی سے قائم کر دیا اور خلافت کی ضرورت و اہمیت کو جماعت کے سامنے بار بار پیش کر کے اس عقیدہ کو جماعت میں راسخ کر دیا کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے۔انسانی منصوبوں سے کوئی شخص خلیفہ نہیں بن سکتا۔خلافت کے الہی نظام کو مٹانے کے لئے منکرین خلافت نے جو فتنہ و فساد برپا کیا اور لوگوں کو ورغلانے اور اپنا ہم خیال بنانے کی جو کارروائیاں کی گئیں آپ نے ان کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا۔منکرین خلافت نے اپنے خیالات کی ترویج کے لئے لاہور سے ایک خاص اخبار جاری کیا جس کا نام پیغام رکھا۔یہ اخبار حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے نام بھی ارسال کیا جانے لگا۔آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے مضامین کو پڑھ کر فرمایا۔یہ تو ہمیں پیغام جنگ ہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بیزار ہو کر اس اخبار کو وصول کرنے سے انکار کر دیا۔حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی وفات: تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 474،329) غرض حضرت خلیفۃ أمسیح الاول رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے سارے دور میں جہاں قرآن وحدیث نبوی کے درس و تدریس میں منہمک اور کوشاں رہے وہاں خلافت کے مسئلہ کو بار بار تقریروں اور خطبات میں واضح کیا یہاں تک کہ جماعت کی غالب اکثریت نے اس حبل اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔آپ رضی اللہ عنہ نے 13 مارچ 1914 ء بروز جمعہ داعی اجل کو لبیک کہا اور ا۔مولائے حقیقی سے جاملے اور بہشتی مقبرہ قادیان میں اپنے محبوب آقا کے پہلو میں دفن ہوئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ دور خلافت ثانیه: 66 تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 511 جدید ایڈیشن) المصلح موعود حضرت خلیلة امسح اثانی رضی اللہ عنہ (1889ء 1965 ء): حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو دور خلافت اس لحاظ سے ممتاز اور نمایاں ہے کہ اس کے بارے میں سابقہ انبیاء و صلحا کی پیشگوئیاں موجود ہیں۔اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار نشانات اور اس کی پیہم تائیدات نے یہ ثابت کر دیا کہ آپ ہی 212