مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 210
کے جواب میں ” تصدیق براہین احمدیہ تصنیف فرمائی۔23 مارچ 1889ء میں جب لدھیانہ میں بیعت اولی ہوئی تو سب سے اوّل آپ رضی اللہ عنہ کو بیعت کا شرف حاصل ہوا۔ستمبر 1892ء میں ریاست کشمیر سے آپ رضی اللہ عنہ کا تعلق منقطع ہو گیا تو بھیرہ میں مطب جاری کرنے کے لئے ایک بڑا مکان تعمیر کرایا ابھی وہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کے بموجب قادیان میں دھونی رما کر بیٹھ رہے۔قادیان میں ایک مکان بنوا کر اس میں مطب شروع کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ دربارِ شام میں نیز سیر و سفر میں ہمرکاب رہتے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس اولاد کو قرآن وحدیث پڑھاتے، صبح سویرے بیماروں کو دیکھتے پھر طالب علموں کو درس حدیث دیتے اور طب پڑھاتے بعد نماز عصر روزانہ درس قرآن کریم دیتے ، عورتوں میں بھی درس ہوتا، مسجد اقصیٰ قادیان میں پنجوقتہ نماز اور جمعہ کی امامت کراتے، جب قادیان میں کالج قائم ہوا تو اس میں عربی پڑھاتے رہے، دسمبر 1905ء میں انجمن کار پرداز مصالح قبرستان کے امین مقرر ہوئے جب صدر انجمن بنی تو اس کے پریذیڈنٹ (President) مقرر ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حوالہ جات نکالنے میں مدد دیتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف کی پروف ریڈنگ proof) (reading کرتے ، مباحثات میں مدد دیتے، اخبار الحکم اور البدر کی قلمی معاونت فرماتے ، قرآن کریم کا مکمل ترجمہ کیا اور چھپوانے کے لئے مولوی محمد علی صاحب کو دیا لیکن صرف پہلا پارہ چھپ سکا۔حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ کا دور خلافت اور کار ہائے نمایاں: 27 مئی 1908ء کو جب کہ آپ کی عمر 67 سال تھی آپ رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے خلیفہ منتخب ہوئے۔قریباً بارہ سو افراد نے بیعت خلافت کی۔مستورات میں سب سے پہلے حضرت اماں جان۔۔۔۔۔نے بیعت کی۔صدر انجمن کی طرف سے اخبار الحکم اور البدر میں اعلان کرایا گیا کہ: آپ (یعنی حضرت اقدس علیہ السلام) کے وصایا مندرجہ رسالہ الوصیت کے مطابق حسب مشورہ معتمدین صدر انجمن احمدیہ موجودہ قادیان و اقربا حضرت مسیح موعود علیہ السلام و باجازت حضرت (اماں جان) کل قوم نے جو قادیان میں موجود تھی اور جس کی تعداد اس وقت بارہ سو تھی والا مناقب حضرت حاجی الحرمین شریفین جناب نورالدین صاحب سلمہ کو آپ علیہ السلام کا جانشین اور خلیفہ قبول کیا اور آپ (رضی اللہ عنہ) کے ہاتھ پر بیعت معتمدین میں سے ذیل کے اصحاب موجود تھے۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب، صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب، جناب نواب محمد علی خاں رحمت اللہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب ، ڈاکٹر مرز یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب، 66 صاحب، خلیفه رشید الدین و خاکسار (خواجه کمال الدین)۔۔۔۔۔۔۔۔اور سلسلہ کے سب ممبران کو ہدایت کی گئی کہ وہ فی الفور حکیم الامت خلیفتہ المسح والمہدی کی بیعت کریں۔چنانچہ اس کے مطابق عمل ہو اور حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کا انتخاب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرح اجماع قوم سے خاص خدائی تصرف سے ہوا اور کسی قسم کا اختلاف اس وقت نہ ہوا۔1) واعظین کا سلسلہ: (1 شروع خلافت سے ہی واعظین سلسلہ کا تقرر ہوا۔شیخ غلام احمد صاحب، حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی، حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی اولین واعظ مقرر ہوئے جنہوں نے ملک کے طول و عرض میں پھر کر سلسلہ کی خدمات سر انجام 210