مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 181
" آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ تمہاری والدہ تم کو ہمیشہ صاحبزادہ طاہر احمد کا ادب و احترام ملحوظ خاطر رکھنے کے لئے کیوں تاکید کرتی تھیں۔حضرت اُمّم طاہر اور تمہاری والدہ دونوں سہیلیاں تھیں ایک سہ پہر کا ذکر ہے جب تمہاری والدہ اپنی سہیلی کو ملنے گئیں، صاحبزادہ طاہر احمد اس وقت تقریباً تین سال کے تھے۔اچانک (حضرت) اُمّم طاہر کمرے سے اٹھ کر چلی گئیں اور جلد ہی اپنے شوہر نامدار حضرت خلیفہ ثانی کی دستار لے کر واپس لوٹیں اور اسے ننھے طاہر کے سر پر باندھ دیا اور بولیں طاہر ایک دن خلیفہ بنے گا پھر اس عدم احتیاط پر خود ہی محجوب ہو کر رہ گئیں اور انور کاہلوں کی والدہ سے عہد لیا کہ وہ اس راز کو افشا نہیں کریں گی انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے اس یقین کی بنا کیا تھی اس کے بعد اس موضوع پر کبھی کوئی بات نہیں ہوئی۔دونوں سہیلیوں کی ملاقات سہ پہر کو ہوئی اسی صبح حضرت اُمّم طاہر کو ایک الہام کا علم ہوا تھا۔(حضرت) خلیفہ ثانی کچھ دیر تو کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے خاموش بیٹھے رہے تھے پھر بالآخر حضرت اُمّ طاہر سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے الہاماً بتایا ہے کہ طاہر ایک دن خلیفہ بنے گا۔دوسری ماؤں کی طرح (حضرت) ام طاہر بھی اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے بڑی اونچی تو قعات رکھتی تھیں۔نسباً نجیب الطرفین سیدہ ہونے کے علاوہ انہیں یہ امتیاز بھی حاصل تھا کہ وہ (حضرت) مسیح موعود علیہ السلام کے خاص فرزند مبارک احمد کی منگیتر بھی تھیں اس لئے خاندان (حضرت) مسیح موعود علیہ السلام میں وہ ایک خاص مقام کی مالک تھیں۔بے شک (حضرت) مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے گیارہ فرزند اور بھی تھے لیکن اب یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے (حضرت) اُمّم طاہر کی دلی تمنا بالآخر پوری ہونے والی تھی یہی وجہ تھی کہ وہ ہمہ وقت اسی کوشش میں لگی رہتی تھیں کہ طاہر احمد سکول میں اسلامی علوم کے حصول اور ان پر عمل میں سب پر سبقت لے جائے۔(حضرت) خلیفہ ثانی کی موجودگی میں تو خوشخبری سن کر (حضرت) ام طاہر اپنے جذبات پر کسی نہ کسی طرح قابو پانے میں کامیاب ہو گئیں لیکن ان کے جاتے ہی ضبط کے سارے بند ٹوٹ گئے اور انہوں نے فرط مسرت سے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔خدا کا کرنا کیا ہوا کہ عین اس وقت ایک نوجوان لڑکی جس کا نام کلثوم بیگم تھا ان سے ملاقات کیلئے آن پہنچی۔کلثوم بیگم حضرت اُمّ طاہر کا اپنی والدہ کی طرح احترام کرتی تھیں اور ان سے ملنے کے لئے اکثر آتی جاتی رہتی تھیں۔کلثوم بیگم کو یہ تو فوراً ہی اندازہ ہو گیا کہ (حضرت) اُمّم طاہر کسی رنج یا غم کی وجہ سے نہیں رو رہی تھیں بلکہ یہ آنسو خوشی اور شدت جذبات کے آنسو تھے، پہلے تو حضرت اُمّ طاہر اپنے آنسوؤں کا سبب چھپانے کی کوشش کرتی رہیں پھر فرط مسرت سے بے بس ہو گئیں۔کلثوم بیگم سے پہلے راز داری کا حلف لیا پھر انہیں (حضرت) خلیفہ ثانی کے الہام کی تفصیل بتائی اور وعدہ لیا کہ جب تک یہ الہام پورا نہ ہو جائے کسی سے اس کا ذکر نہیں کریں گی۔کلثوم بیگم نے اپنے وعدے کو پورا کیا۔ان کی ایک احمدی مشنری سے شادی ہو گئی اور آنے والے پچاس سالوں میں انہیں بارہا صاحبزادہ مرزا طاہر احمد سے ملاقات کا موقع ملتا رہا لیکن کلثوم بیگم کے ہونٹوں پر مسلسل مہر سکوت لگی رہی۔اگر چہ کلثوم بیگم دوسرے بھائیوں کے مقابلہ پر صاحبزادہ مرزا طاہر احمد سے انتہائی امتیازی ادب و احترام پیش آتی تھیں لیکن صاحبزادہ صاحب کو کبھی شک تک نہیں گزرا کہ اس امتیازی سلوک اصل سبب کیا تھا۔خلافت رابعہ کے انتخاب کے بعد (حضرت) خلیفہ رابع سے ملاقات کے لئے جب کلثوم بیگم حاضر ہوئیں تو انہوں نے اس راز سے پردہ اٹھایا اور اس الہام کی تفصیل بتائی جو (حضرت) خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے (حضرت) اُمّم طاہر کو بتایا تھا۔“ ایک مرد خدا از آئن ایڈمسن ترجمہ چودھری محمد علی صاحب صفحہ 206 تا 209) 181