مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 178
178 ارج المطالب یعنی سیرت امیر المؤمنین از عبید اللہ امرتسری بسمل صفحه 50 باب اوّل جناب امیر کے اسماء مبارک میں ناشر حق برادرز انار کلی لاہور ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک رؤیا: اس عاجز پر جو ایک رؤیا میں ظاہر کیا گیا ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفر و ضلالت میں ہیں آفتاب صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا اور میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا ہو گا سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں کو پھیلیں گی اور بہت سے راستباز انگریز صداقت کا شکار ہو جائیں گے۔“ جسم : (ازالہ اوبام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 377-376) 19/جنوری 1903ء: ”حضرت اقدس علیہ السلام نے عشا سے پیشتر یہ رویا سنائی کہ: ” میں مصر کے دریائے نیل پر کھڑا ہوں اور میرے ساتھ بہت سے بنی اسرائیل ہیں اور میں اپنے آپ کو موسیٰ سمجھتا ہوں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھاگے چلے آتے ہیں۔نظر اٹھا کر پیچھے دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرعون کا لشکر کثیر کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہے اور اس کے ساتھ بہت سامان مثل گھوڑے و گاڑیوں و رتھوں کے ہے اور وہ ہمارے بہت قریب آ گیا ہے۔میرے ساتھی بنی اسرائیل بہت گھبرائے ہوئے ہیں اور اکثر ان میں سے بے دل ہو گئے ہیں اور بلند آواز سے چلاتے ہیں کہ اے موسیٰ ہم پکڑے گئے تو میں بلند آواز سے کہا: كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (ترجمہ: ہرگز نہیں یقیناً میرا رب مجھے راہ دکھائے گا۔اتنے میں میں بیدار ہو گیا اور زبان پر یہی الفاظ جاری تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: (الحکم 31 جنوری 1903ء) 18 / اکتوبر 1892ء کے بعد دسمبر 1892 کو ایک اور رؤیا دیکھا۔کیا دیکھتا ہوں کہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ بن گیا ہوں یعنی خواب میں ایسا معلوم کرتا ہوں کہ وہی ہوں اور خواب عجائبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایک شخص اپنے تئیں دوسرا شخص خیال کر لیتا ہے سو اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں علی مرتضیٰ ہوں اور ایسی صورت واقع ہے کہ ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کا مزاحم ہو رہا ہے یعنی وہ گروہ میری خلافت کے امر کو روکنا چاہتا ہے اور اس میں فتنہ انداز ہے تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہیں اور شفقت اور توڈد سے مجھے فرماتے ہیں: یا عَلِيُّ ادَعْهُمْ وَاَنْصَارَهُمْ وَزَرَاعَتَهُمُ یعنی اے علی ! ان سے اور ان کے مددگاروں اور ان کی کھیتی سے کنارہ کر اور ان کو چھوڑ دے اور ان سے منہ پھیر لے اور میں نے پایا کہ اس فتنہ کے وقت صبر کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو فرماتے ہیں اور اعراض کے لئے