مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 172
حضرت علامہ مولانا مولوی غلام رسول صاحب فاضل راجیکی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نے مجھ سے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے آخری ایام میں جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمان خانہ میں آنجناب سے علاج کرایا کرتا تھا ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام میری عیادت یعنی بیمار پرسی کے طور پر تشریف لائے ہیں اور میرے پاس آ بیٹھے ہیں اور فرماتے ہیں: اب کیا حال ہے؟ صبح کے وقت سیدنا محمود ایدہ اللہ تشریف لائے اور میرے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا: اب کیا حال ہے؟ اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا اور حضور علیہ السلام کو فرماتے سنا بالکل اسی طرح سیدنا حضرت محمود رضی اللہ عنہ سے وہ بات پوری ہوئی۔پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ دریافت فرمایا کہ: بتائیے آج کل کوئی خواب تو نہیں دیکھا؟ ان دنوں میں جماعت انصار اللہ کا بھی ممبر تھا جو حضرت خلیفہ مسیح ثانی رضی اللہ عنہ کے انتظام سے تعلق رکھتی تھی، میں نے عرض کیا: انہی دنوں میں میں نے یہ خواب دیکھا کہ ایک نیا چاند چڑھا ہے اور وہ کامل بھی ہے اور اس کی روشنی میں بھی کوئی نقص اور کسی طرح کی کمی نہیں لیکن اس کے مقابل زمین سے اس قدر گرد و غبار اُٹھا ہے کہ اس کی روشنی کو زمین پر پڑنے سے روکتا ہے اور اس وقت ہم جو انصار میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اس گرد و غبار کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے معوذتین یعنی سوره قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور سورہ قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ کو بہت پڑھنا چاہیے۔“ بشارات رحمانیہ جلد 1 صفحه 315 و 316 از مولانا عبدالرحمن مبشر صاحب) حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: ”یہ بھی دیکھا کہ ہم ایک دریا سے نوح علیہ السلام کی کشتی کے ذریعہ پار اترے ہیں اور جب کنارے پر ہیں تو ہمیں حکم ملا ہے کہ اب اس کشتی سے اترنے کے بعد تم نے ایک بحری جہاز پر سوار ہونا ہے۔چنانچہ ابھی وہ جہاز ایک جگہ کھڑا ہوا تھا کہ ہم اس پر جا سوار ہوئے اور اس کی کئی منزلیں ہیں ہم سب سے اوپر کی منزل میں سوار ہوئے جہاز بالکل نیا معلوم ہوا گویا کاریگر ابھی بنا کر گئے ہیں، ابھی اس کی تراش خراش کے آثار بھی اس پر نظر آ رہے تھے کہ ہم اس پر جا سوار ہوئے ہمیں بتایا گیا کہ اس جہاز کے چلنے میں ابھی کچھ دیر ہے لیکن باوجود دیری کے ہم پہلے ہی اس پر سوار ہوئے اس کے متعلق مجھے یہ تعبیر بتائی گئی کہ کشتی نوح علیہ السلام کی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ تھے اور یہ بالکل نیا تیار شدہ جہاز جواب کچھ دیر بعد چلنے والا ہے یہ سیدنا محمود ہیں جو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ ثانی ہوں گے اور جماعت انصار اللہ کی حیثیت میں آپ سے تعلق گویا اس جہاز میں پہلے ہی جا سوار ہونے کی طرف اشارہ تھا جس کی بعد میں تصدیق ہو گئی۔“ (بشارات رحمانیہ جلد 1 صفحہ 316 و 317از مولانا عبدالرحمن مبشر صاحب) بیان محترمہ اہلیہ صاحبہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان: و محتر مہ اہلیہ صاحبہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ محترمہ نہ گھوڑے سے گرے تو انہی غم و اندوہ کے دنوں میں ایک رات خواب میں یہ نظارہ دیکھا کہ ایک جگہ ہے سے کوئی باغ ہے اس میں ایک مجلس چوکور شکل میں بیٹھی ہوئی ہے جس میں بڑے بڑے بزرگ اور نورانی شکل بیٹھے ہیں کہ اچانک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نمودار ہوئے اور ایسا معلوم ہوا کہ حضور علیہ کی طرف سے تشریف لائے ہیں لیکن یقینی طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ سڑک کی طرف سے تشریف آوری ہوئی بلکہ السلام لام سڑک 172