مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 153
احسان ہے کہ وہ مامور بھیجتا ہے جو پیدا ہونے والی بیماریوں دعاؤں کے مانگنے والا، خدا کی درگاہ میں ہوشیار انسان، شرارتوں اور عداوتوں کے بد نتائج سے آگاہ، بھلائی سے واقف انسان ہوتا ہے۔جب غفلت ہوتی ہے اور قرآن کریم سے بے خبری ہوتی ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں میں بے سمجھی پیدا ہو جاتی ہے تو خدا کا وعدہ ہے کہ ہمیشہ خلفا پیدا کرے گا جس کے سبب سے کل دنیا میں اسلام فضلیت رکھتا ہے یہ امر مشکل ہے کہ ہم اس انسان کو کیونکر پہچانیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے؟ اس کی شناخت کیلئے ایک نشان مِنْ جُملہ اور نشانوں کے خدا تعالیٰ نے یہ مقرر فرمایا ہے : لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُم خدا فرماتا ہے کہ ہمارے مامور کی شناخت کیا ہے اس کیلئے ایک تو یہ نشان کہ وہ بھولی بسری متاع جس کو خدا تعالیٰ پسند کرتا ہے اس سے کہ سے لوگ آگاہ ہوں اور غلطی سے چونک اٹھیں اور اسے چھوڑ دیں، اس کو پورا کرنے کیلئے اس کو ایک طاقت دی جاتی ہے ایک قسم کی بہادری اور نصرت عطا ہوتی ہے اس بات کے قائم کرنے کیلئے جس کیلئے اس کو بھیجا ہے قسم قسم کی نصرتیں ہوتی ہیں کوئی ارادہ اور سچا جوش پیدا نہیں ہوتا جب تک کہ خدا تعالیٰ کی مدد کا ہاتھ ساتھ نہ ہو۔بڑی بڑی مشکلات آتی ہیں اور ڈرانے والی چیزیں آتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان سب خوفوں اور خطرات کو امن میں بدل دیتا ہے اور دور کر دیتا ہے۔ایک معیار تو اس کی راست بازی اور شناخت کا یہ ہے۔حقائق الفرقان جلد 3 صفحہ 229-228) خلافت عَلَى مِنْهَاج النُّبُوَّةِ از حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آیت استخلاف کی روشنی میں خلافت عَلَى مِنْهَاج النُّبُوَّةِ کے بارے میں فرمایا: ان آیات سے یہ مضمون شروع ہوتا ہے کہ اگر مسلمان قومی طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے تو ان کو کیا انعام ملے گا۔چنانچہ فرماتا ہے کہ تم میں سے جو لوگ خلافت پر ایمان لائیں گے اور خلافت کے استحقاق کے مطابق عمل کریں گے اور ایسے اعمال بجالائیں گے جو انہیں خلافت کا مستحق بنا دیں ان سے اللہ تعالیٰ یہ وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو اس نے خلیفہ بنایا اور ان کی خاطر ان کے دین کو جو اُس نے اُن کیلئے پسند کیا ہے دنیا میں قائم کرے گا اور جب بھی ان پر خوف آئے گا اس کو امن سے بدل دے گا۔اور ایسا ہوگا کہ وہ میری عبادت کرتے رہیں گے اور کسی کو میرا شریک قرار نہیں دیں گے۔لیکن جو لوگ مسئلہ خلافت پر ایمان لانا چھوڑ دیں گے وہ اس انعام سے متمتع نہیں ہوں گے بلکہ اطاعت سے خارج سمجھے جائیں گے۔اس آیت میں مسلمانوں کی قسمت کا آخری فیصلہ کیا گیا ہے اور ان سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ خلافت کے قائل رہے اور اس غرض کے لئے مناسب کوشش اور جدوجہد بھی کرتے رہے تو جس طرح پہلی قوموں میں خدا تعالیٰ خلافت قائم کی ہے اسی طرح ان کے اندر بھی خدا تعالیٰ خلافت کو قائم کر دے گا اور خلافت کے ذریعہ سے ان کو ان کے دین پر قائم فرمائے گا جو خدا نے ان کے لئے پسند کیا ہے اور اس دین کی جڑیں مضبوط کر دیگا اور خوف کے بعد امن کی حالت ان پر لے آئے گا جس کے نتیجہ میں وہ خدائے واحد پرستار بنے رہیں گے اور شرک نہیں کریں گے۔“ کے 66 ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 367-366) 153