مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 151 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 151

ایک اور جگہ اسی مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا : ”خدا وعدہ دے چکا ہے کہ اس دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفے پیدا کرے گا اور قیامت تک اس کو قائم کرے گا یعنی جس طرح موسیٰ کے دین میں مدت ہائے دراز تک خلیفے اور بادشاہ بھیجتا رہا ایسا ہی اس جگہ بھی کرے گا اور اس کو معدوم ہونے نہیں دے گا۔“ تبلیغ رسالت - مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 60) خلافت عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ از حضرت خلیفة أمسح الاول رضی اللہ عنہ حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے خلافت على مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ کے بارے میں فرمایا: يَسْتَخْلِفَنَّهُمْ: خلیفہ کا بنانا خدا کے اختیار میں ہے اور میں اس امر میں خود گواہ ہوں کہ خلافت خدا کے فضل سے ملتی ہے۔وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمُ : یہ سچے خلیفہ کی صداقت کے نشان بتائے کہ ان میں تمکین دے گا ان پر خوف بھی آئے گا مگر وہ خوف امن سے بدلا جاوے گا برخلاف اس کے جو ان کے منکر ہوئے وہ فاسق ہوں گے۔چنانچہ دیکھ لو کنجروں سے، رنڈیوں سے پوچھو تو اپنے تئیں اسی گروہ کی خادم بتاتی ہیں جو کافر ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جولائی 1910ء) اللہ نے تم میں سے مومنوں اور نیکو کاروں سے وعدہ کیا کہ انہیں سر زمین مکہ میں ضرور خلیفہ بنائے گا جیسا ان سے پہلوں نے بنایا اور وہ دین جو ان کیلئے پسند کیا ہے اسے ان کی خاطر مضبوط کر دے گا اور ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا کہ وہ میرے عبادت کریں گے اور کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرائیں گے۔یہ پیشین گوئی صحابہ رضی اللہ عنہم کے حق میں ایسی پوری ہوئی کہ تاریخ عالم میں اس کی نظیر نہیں۔“ (فضل الخطاب حصہ دوم صفحہ 97) " جس طرح جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم دشمنوں سے نجات پا کر آخر معزز اور ممتاز اور خلافت اور سلطنت سے سرفراز ہوئی اسی طرح ٹھیک اسی طرح لَا رَيْبَ اسی طرح اس رسول کے اتباع بھی موسیٰ علیہ السلام کے اتباع کی طرح بلکہ بڑھ کر ابراہیم کے موعود ملک بالخصوص اور اپنے وقت کے زبردست بادشاہوں پر علی العموم خلافت کریں گے۔فرمایا: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَ مِّنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ (سورة النور: 56) وعدہ دے چکا اللہ تعالیٰ ان O لوگوں کو تم میں سے جو ایمان لائے اور کام کئے انہوں نے اچھے ضرور خلیفہ کر دے گا ان کو اس خاص زمین میں (جس کا وعدہ ابراہیم علیہ السلام سے ہوا) جیسے خلیفہ بنایا ان کو جو ان اسلامیوں سے پہلے تھے اور طاقت بخشے گا انہیں اس دین کو پھیلانے کیلئے جو اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے پسند فرمایا۔اور ضرور ہی بدلہ دے گا انہیں خوف کے بعد امن سے۔“ b۔66 تصدیق براہین احمدیہ صفحہ 16-15) اللہ کی نعمت کی قدر کرو، اُس نے خاتم الانبیاء بھیجا، کتاب بھی کامل بھیجی، کتاب کے سمجھانے کا خود وعدہ کیا اور 151