مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 134
یہ یہ ساری چیزیں جن کا ذکر ہے، سوئم ، چالیسواں ، گٹھلیوں پر قرآن پھونکنا، ختم قرآن، باداموں پر پڑھنا، ان میں ے ایک چیز بھی حضرت اقدس محمد ملحقہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں نہیں تھی اور اس بارہ میں شیعہ سنی روایات میں اختلافات ہی کوئی نہیں، متفق علیہ ہیں کہ حضرت اقدس محمد صل الله ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے وقت میں یہ رسمیں نہیں یہ گٹھلیاں اور بادام، یہ تنزل کی علامتیں ہیں۔جب قومیں بگڑتی ہیں تو رسم و رواج بن جایا کرتی ہیں۔اتنی بات تو غالب بھی سمجھ گیا تھا ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں حضرت اقدس محمد مطلقہ کا نہ تو سوئم ہوا، نہ گیارھویں ہوئی، نہ چالیسواں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی خلیفہ کا نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کا نہیں ہوا تو آج کون حق رکھتا ہے ان رسوم سے علاوہ رسمیں بنانے کا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھیں؟ تو ہم یہ کہتے ہیں کہ قوم نے اگر زندہ ہونا ہے تو واپس جانا پڑے گا، اس زمانہ میں لوٹنا پڑے گا جو زندگی کا زمانہ تھا، اس روشنی میں جانا پڑے گا جو حضرت اقدس محمد ملالہ کے نور کی روشنی تھی باقی سب اندھیرا تھا۔“ مجالس عرفان از لجنہ اماء اللہ کراچی صفحہ 115-116) سید نا حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔پر ”دنیا کی ہر قوم اور ہر ملک کے رہنے والوں کے بعض رسم و رواج ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک قسم جو رسم و رواج کی ہے وہ ان کی شادی بیاہوں کی ہے چاہے عیسائی ہوں یا مسلمان یا کسی مذہب کے ماننے والے، ہر مذہب کے ماننے والے کا اپنے علاقے، اپنے قبیلے کے لحاظ سے خوشی کی تقریبات اور شادی بیاہ کے موقع خوشی کے اظہار کا اپنا اپنا طریقہ ہے۔اسلام کے علاوہ دوسرے مذہب والوں نے تو ایک طرح ان رسم و رواج کو بھی مذہب کا حصہ بنا لیا ہے۔جس جگہ جاتے ہیں، عیسائیت میں خاص طور پر ہر جگہ ہر علاقے کے لوگوں کے مطابق ان کے جو رسم و رواج ہیں وہ وہ تقریباً حصہ بن چکے ہیں یا بعض ایسے بھی ہیں جو رسم و رواج کی طرف سے آنکھ بند کر لیتے ہیں لیکن اسلام جو کامل اور مکمل مذہب ہے، جو باوجود اس کے کہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ خوشی کے مواقع پر بعض باتیں کر لو۔مثلاً روایت میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک دفعہ ایک عورت کو دلہن بنا کر ایک انصاری کے گھر بھجوایا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس پر آنحضرت ملالہ نے مجھے فرمایا کہ اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! رخصتانہ کے موقع پر تم نے گانے بجانے کا انتظام کیوں نہیں کیا؟ حالانکہ انصاری شادی کے موقع پر اس کو پسند کرتے ہیں۔ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح کا اچھی طرح اعلان کیا کرو اور اس موقع پر چھاننی بجاؤ! یہ دف کی ایک قسم ہے لیکن اس میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری رہنمائی فرما دی ہے اور بالکل مادر پدر آزاد نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس گانے کی بھی کچھ حدود مقرر فرمائی ہیں کہ شریفانہ حد تک ان پر عمل ہونا چاہئے اور شریفانہ اہتمام ہو، ہلکے پھلکے اور اچھے گانوں کا۔ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی خوشی کے اظہار کے طور پر شادی کے موقع پر بعض الفاظ ترتیب فرمائے کہ اس طرح گایا کرو کہ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا فَحَيَّاكُمْ یعنی ہم تمہارے ہاں آئے ہمیں خوش آمدید کہو۔تو ایسے لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہر قسم کی اوٹ پٹانگ حرکتیں کرو، شادی کا موقع ہے کوئی حرج نہیں، ان کی غلط سوچ ہے۔بعض دفعہ ہمارے ملکوں میں شادی کے موقعوں پر ایسے ننگے اور گندے گانے 134