مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 133
وہ گھرانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام بد رسوم کو جڑوں سے اُکھیڑ کے اپنے گھروں سے پھینک دیں۔رسوم تو دنیا میں بہت سی پھیلی ہوئی ہیں لیکن اس وقت اُصولی طور پر ہر گھرانے کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں گھر کے دروازے پر کھڑا ہو کر اور ہر گھرانے کو مخاطب کر کے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتا ہوں اور جو احمدی گھرانہ بھی آج کے بعد ان چیزوں سے پر ہیز نہیں کرے گا اور ہماری اصلاحی کوششوں کے باوجود اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہو گا وہ یہ یاد رکھے کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کی جماعت کو اس کی کچھ پروا نہیں۔اسی طرح جماعت سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے گا جیسے دودھ سے سے مکھی۔پس قبل اس کے کہ خدا کا عذاب کسی قہری رنگ میں آپ پر وارد ہو یا اس کا قہر جماعتی نظام کی تعزیر کے رنگ میں آپ پر وارد ہو، اپنی اصلاح کی فکر کرو اور خدا سے ڈرو اور اس دن کے عذاب سے بچو کہ جس دن کے ایک لحظہ کا عذاب بھی ساری عمر کی لذتوں کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے کہ اگر یہ لذتیں اور عمر میں قربان کر دی جائیں اور انسان اس سے بچ سکے تو تب بھی وہ مہنگا سودا نہیں ،سستا سودا ہے۔“ (الفضل 2 جولائی 1967ء) سیدنا حضرت خلیفۃ لمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بد رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہوئے مزید فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ آپ سب میرے ساتھ اس جہاد میں شریک ہوں گے اور اپنے گھروں کو پاک کرنے کے لئے شیطانی وسوسوں کی سب راہوں کو اپنے گھروں پر بند کر دیں گے۔دعاؤں کے ذریعہ اور کوشش کے ذریعہ اور جدوجہد اور حقیقتاً جو جہاد کے معنے ہیں، اس جہاد کے ذریعہ اور صرف اسی غرض سے کہ خدا تعالیٰ کی توحید دنیا میں قائم ہو، ہمارے گھروں میں قائم ہو، ہماری عورتوں اور بچوں کے دلوں میں قائم ہو اور اس غرض سے کہ شیطان کیلئے ہمارے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کر دیئے جائیں۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی ہر قسم کی نیکیوں کی توفیق عطا فرمائے۔“ (خطبہ جمعہ 23 جون 1967ء) حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں نے یہ نصیحت کی تھی کہ اپنے شادی بیاہ وغیرہ کے مواقع پر ایسی رسومات میں مبتلا نہ ہوں جو احمدیوں کو زیب نہیں دیتیں اور ایک دفعہ یہ بد رسومات آپ کی تقریبات میں راہ پا گئیں تو پھر یہ بیماریاں ہمیشہ کے لئے چمٹ جائیں گی اور بڑھتی رہیں گی اور پھر آپ ان کا کوئی علاج نہیں کرسکیں گے۔“ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (خطبه جمعه فرموده 3 ستمبر 1993ء از روزنامه الفضل 28 جنوری 2003ء) جو معاشرتی خامیاں ہمارے اندر موجود ہیں، ہماری جماعت کے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے وہ قابل برداشت نہیں۔ان کو ساتھ لے کر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ان معاشرتی خامیوں سے مستقبل کی نسل کو تباہ کرنے کے بیج بو دیئے گئے ہیں۔آئندہ نسلوں کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کرنے اور قتل کرنے کے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔میں کس طرح اس خوف سے کہ دشمن ہنسے گا چھپا کر بیٹھ جاؤں۔میں بھی تو جواب دہ ہوں اور آپ سب سے بڑھ کر جواب دہ ہوں۔ایک خاندان کی نہیں ساری جماعت کی ذمہ داری خدا تعالیٰ نے میرے اوپر ڈالی اور تمام جماعت کے حالات کے بارہ میں پوچھا جاؤں گا اس لئے کیسے میں یہ بات چھپا سکتا ہوں۔“ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: ہے (خطبه جمعه فرموده 14 فروری 1986ء) 133