مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 113 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 113

خلافت اور جماعت احمدیہ سے علیحدہ ہونے کے بعد مصری صاحب غیر مبائعین میں شامل ہو گئے اور یہ اعلان بھی کر دیا کہ جماعت احمدیہ اور وہ اس غلطی میں مبتلا چلے آ رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی ہیں جبکہ حضور علیہ السلام کا اصل مقام نبوت کا نہیں بلکہ محدثیت کا ہے بالفاظ دیگر انہوں نے بالواسطہ طور پر تسلیم کر لیا کہ ان کا پہلے خلیفہ کو معزول کر کے نئے خلیفہ کے انتخاب کا ہنگامہ کھڑا کرنا سراسر باطل تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے عقیدہ کے مطابق نبی نہ تھے اور نہ آپ علیہ کے بعد کسی خلافت کی ضرورت تھی۔علاوہ ازیں مصری صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبشر اولاد اور آپ علیہ کے خاندان کو بد نام کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ان کی ان مذموم کوششوں کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی السلام السلام اللہ عنہ فرماتے ہیں:۔جس قسم کے گندے اعتراض وہ کر رہے ہیں اور جس قسم کے ناپاک حملوں کے کرنے کی ان کی طرف۔اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے اطلاعیں آرہی ہیں اگر وہ ان پر مُصر رہے اور اگر انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے توبہ نہ کی تو میں کہتا ہوں احمدیت کیا اگر ان کے خاندانوں میں حیا باقی رہی تو مجھے کہیں بلکہ میں اس سے بھی واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ جس قسم کے خلاف اخلاق اور خلاف حیا وہ حملے کر کے نتیجے میں اگر ان کے خاندان فحش کا مرکز بھی بن جائیں تو ا سے بعید از عقل نہ سمجھو۔“ رہے ہیں اس از خطبه جمعه فرمودہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ 23 جولائی 1937 ء - الفضل 1 اگست 1937ء صفحہ 11 کالم (1) اس کا نتیجہ جلد ہی ظاہر ہو گیا اور گند اچھالنے کے نتیجے میں مصری صاحب کی اپنی اولاد ان کے لئے موجب فضیحت بن گئی۔مصری صاحب کے ایک رشتہ دار محترم چودھری عنایت اللہ فاضل مشرقی افریقہ نے ان کے خاندان کے بارے میں بعض حقائق -3 پردہ اٹھایا اور مصری صاحب کی اولاد کی مکروہ کاروائیوں کا ذکر کیا جن کی تردید کی بھی مصری صاحب جرات نہ کر سکے۔تیسرا فتنہ میاں عبدالمنان صاحب اور عبدالوہاب صاحب نے کھڑا کیا۔یہ لوگ شروع سے ہی خلیفہ بننے کی کوششوں میں رہے تھے۔پہلی دفعہ 1929ء میں عزل خلافت کا ایک شرمناک منصوبہ تیا ر کیا گیا لیکن حضور رضی اللہ عنہ کو بروقت اطلاع ہونے پر یہ سازش پیوند خاک ہو گئی۔پھر 1955 ء میں ان لوگوں کو حضور رضی اللہ عنہ کی بیماری اور سفر یورپ کی وجہ سے یہ موقع میسر آگیا اور انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ چونکہ خلیفہ وقت بوڑھا ہو چکا ہے اس لئے کسی اور کو خلیفہ منتخب کر لینا چاہئے معاذ اللہ ! اوراس کے بعد آہستہ آہستہ انہوں نے اپنا نام بطور خلیفہ کے پیش کرنا شروع کردیا اور کہنے لگے کہ مسند خلافت پر ہمارا ان کی مسلسل زیادتیوں اور غلطیوں کے باوجود حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ان سے صرف نظر فرماتے رہے بلکہ ان کو خرچ کے طور پر وظیفہ بھی بھجواتے رہے لیکن معاملہ جب حد سے بڑھ گیا اور جماعت کی بقا کا مسئلہ درپیش ہوا تو پھر واضح ثبوتوں کی بنا پر انہیں اخراج از نظام جماعت کی سزا دی گئی۔جماعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ کے ہاتھ پر اکٹھا رکھا اور ترقیات پر ترقیات عطا کرتا چلا گیا۔حق یہ فتنہ حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میاں عبدالمنان صاحب اور عبدالوہاب صاحب نے اُٹھایا تھا۔اس کا فتنہ کا ظہور اور فتنہ پردازوں کا انجام بھی خلافت ثانیہ کی حقانیت کا ایک روشن نشان ہے کیونکہ اس کے ظہور سے ساڑھے چھ سال قبل حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو بذریعہ رویا اس کی خبر دے دی گئی تھی اور 27 جون 1950ء کو حضور رضی اللہ عنہ نے احباب جماعت کے سامنے حسب ذیل الفاظ میں اسے پوری طرح کھول کر بیان بھی فرما دیا تھا کہ: میں نے دیکھا کہ ایک اشتہار ہے جو کسی شخص نے لکھا ہے جو شخص مجھے خواب کے بعد یاد رہا ہے مگر میں اس کا نام نہیں لینا چاہتا صرف اتنا بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ اشتہار ہمارے کسی رشتہ دار نے دیا ہے مگر اس کی رشتہ داری میری بیویوں کے ذریعے سے ہے۔اس اشتہار میں میرے بعض بچوں کے متعلق تعریفی الفاظ ہیں اور ان کی بڑائی کا اس میں ذکر کیا گیا ہے۔میں رویا میں سمجھتا ہوں کہ یہ محض ایک چالا کی ہے۔درحقیقت اس کی 113