مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 111 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 111

بالآخر ان کا ایمان بھی جاتا رہا اور صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر احمدیوں سے مباحثہ کیا اور یوں جماعت سے کاٹ کر الگ پھینک دیئے گئے۔- از فتنه مستریان مباہلہ از ڈاکٹر بدر الدین صاحب) اس فتنہ کے بانی فضل کریم لوہار جالندھر شہر سے 1915ء میں قادیان آئے۔ان کے ساتھ ان کے تین بچے تھے اور بیوی فوت ہو چکی تھی۔انہوں نے ایک مکان کرائے پر لیا جس کا کرایہ کبھی ادا نہ کیا۔جماعتی انتظام کے تحت ان کی شادی کروائی گئی اور حضرت مصلح موعودؓ کے خاندان کی طرف سے رہائشی مکان کے لیے مفت زمین بھی دی گئی۔ان کا لین دین درست نہ تھا۔چنانچہ انہوں نے بعض احمدیوں سے قرضے لیے اور انہیں رقوم واپس نہ کیں۔اس فتنے میں فضل کریم اور ان کے بیٹے مولوی فاضل عبدالکریم نے نمایاں کردارادا کیا۔تحفہ مستریان از میر قاسم علی ص2 تا3) مستری صاحبان شروع میں تو کہتے تھے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر سچا ایمان ہے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ہر طرح اطاعت کریں گے لیکن جب بعض مالی بد معاملگیوں کی بنا پر ان کے خلاف جماعتی فیصلہ ہوا تو یہ لوگ حضور رضی اللہ عنہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور حضور رضی اللہ عنہ کی خلافت پر مباہلہ کا مطالبہ کرنے لگے۔ان کے اس طرح کے بار بار مطالبات پر حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے فرمایا: "آخر میں میں یہ بھی کہ دینا چاہتا ہوں کہ بعض امور میں مباہلہ جائز بھی ہوتا ہے اگر بعض لوگ بغیر خدا کے غضب کو بھڑکانے کے تسلی نہ پائیں اور میری اس نصیحت بالا کو قبول نہ کریں۔تو پھر میں کہتا ہوں کہ یہ مسئلہ اس طرح بھی حل ہو جاتا ہے کہ میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس کے ہاتھ میں جزا اور سزا ہے اور ذلت و عزت ہے کہ میں اس کا مقرر کردہ خلیفہ ہوں اور جو لوگ میرے مقابل کھڑے ہیں اور مجھ سے مباہلہ کا مطالبہ کرتے ہیں وہ اس کی مرضی اور اس کے قانون کے خلاف کر رہے ہیں اگر میں اس امر میں دھوکہ سے کام لیتا ہوں تو اے خدا! تو اپنے نشان کے ساتھ صداقت کا اظہار فرما! اب جس شخص کو دعوئی ہو کہ وہ اس رنگ میں میرے مقابل پر آنے میں حق بجانب ہے وہ بھی قسم کھا لے۔اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کر دے گا۔پس یہ میرا خط آپ کی تسلی نہ کرے تو آپ کا اصل فرض یہ ہونا چاہئے کہ دوسرا خلیفہ کھڑا کر دیں جو اپنے تقویٰ اور نیکی سے دنیا کو اپنی طرف کھینچ لے پھر جو میرے مبائع ہیں اُن کو بھی خود بخود ہوش آ جائے گی اور آپ کا کام آسان ہو جائے گالیکن یاد رکھیں کہ خدا کے کام کو کوئی نہیں روک سکتا خدا تعالیٰ میری مدد کرے گا اور میرے ہاتھ پر اسلام کو فتح دے گا درمیانی ابتلا اس کی سنت ہیں اور میں ان سے نہیں گھبراتا ،وہ خود سلسلہ کا رکھوالا ہے اور وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔میرا مقابلہ انسان کو دہریت سے ورے نہیں رکھے گا۔خدا تعالیٰ کے اس قدر نشانوں کا انکار ایمان کو ضائع کر دینے کے لیے کافی ہے۔“ ( تحفه مستریان از میر قاسم علی - صفحه 72) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی دعائے مباہلہ کا یہ اثر ہوا کہ مستری صاحبان اپنی موت آپ مر گئے اور غیر احمد یوں سے مل کر احمدیوں کے مقابل پر صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوع پر مباحثے کرنے لگے جس کے وجہ سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے صاف لفظوں میں فرمایا: ” ایک لعنت تو ظاہر ہو چکی ہے کہ اس فتنہ کی ابتدا میں یہ لوگ دعوئی کرتے تھے کہ ہم مسیح موعود علیہ السلام کو مانتے ہیں لیکن آج یہ حالت ہے کہ سیالکوٹ کے ضلع میں انہوں نے صداقت مسیح موعود علیہ السلام پر احمدیوں 111