مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 523
یا ان امور کو کھولے گا۔ان تمام امور کی سر انجام دہی کے لئے یہ روپیہ خرچ کیا جائے گا۔یہ وہ تعلیم ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی۔آپ صاف فرماتے ہیں کہ ہر ایک امر جو مصالح اشاعت اسلام میں داخل ہے اور جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے اس پر یہ روپیہ خرچ کیا جائے گا۔اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ ایسے امور بھی ہیں جن کو ابھی بیان نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے جب دنیا چلا چلا کر کہے گی کہ ہمیں ایک نئے نظام کی ضرورت ہے تب چاروں طرف سے آوازیں اٹھنی شروع ہو جائیں گی کہ آؤ! ہم تمہارے سامنے ایک نیا نظام پیش کرتے ہیں۔روس کہے گا آؤ میں کو نیا نظام دیتا ہوں، ہندوستان کہے گا آؤ میں تم کو نیا نظام دیتا ہوں، جرمنی اور اٹلی کہے گا آؤ میں ایک نیا نظام دیتا ہوں، امریکہ کہے گا آؤ میں تم کو نیا نظام دیتا ہوں! اس وقت میرا قائم مقام قادیان سے کہے گا کہ نیا نظام ”الوصیت میں موجود ہے اگر دنیا فلاح و بہبود کے رستہ پر چلنا چاہتی ہے تو اس کا ایک ہی “ طریق ہے اور وہ یہ کہ الوصیت کے پیش کردہ نظام کو دنیا میں جاری کیا جائے۔“ (نظام نوصفحه 116-117 ) رسالہ الوصیت اور خواجہ کمال الدین صاحب کی بے ساختگی: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خواجہ کمال الدین صاحب (جو بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نبی ہونے کے منکر ہو گئے تھے ) پر الوصیت میں بیان کردہ نئے نظام کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: جس دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وصیت لکھی اور اس کا مسودہ باہر بھیجا تو خواجہ کمال الدین صاحب اس کو پڑھنے لگ گئے۔جب وہ جب وہ پڑھتے پڑھتے اس مقام پر پہنچے تو وہ بے خود ہو گئے، ان کی نگاہ نے اس کے حسن کو ایک حد تک سمجھا۔وہ پڑھتے جاتے اور اپنی رانوں پر ہاتھ مار مار کر کہتے جاتے کہ : ”واہ اوئے مرزا ! احمدیت دیاں جڑاں لگا دیتیاں ہیں یعنی واہ واہ مرزا تو نے احمدیت کی جڑوں کو مضبوط کر دیا ہے۔خواجہ صاحب کی نظر نے بے شک اس کے حسن کو ایک حد تک سمجھا مگر پورا پھر بھی نہیں سمجھا۔درحقیقت اگر وصیت کو غور پڑھا جائے تو یوں کہنا پڑتا ہے کہ واہ او مرز !! تو نے اسلام کی جڑیں مضبوط کر دیں! واہ اومرزا ! تو نے انسانیت کی جڑیں ہمیشہ کے لیے مضبوط کر دیں۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَ عَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ وَ بَارِک وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ ނ مَجِيدٌ۔نظام وصیت کے معاشی فوائد: (نظام نو صفحہ 128 ) وصیت حاوی ہے اس تمام نظام پر جو اسلام نے قائم کیا ہے۔بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ وصیت کا مال صرف لفظی اشاعت اسلام کے لئے ہے مگر یہ بات درست نہیں۔وصیت لفظی اشاعت اور اور عملی اشاعت دونوں کے لئے ہے جس طرح اس میں تبلیغ شامل ہے اسی طرح اس میں اس نئے نظام کی تکمیل بھی شامل ہے جس کے ماتحت ہر فردِ بشر کی باعزت روزی کا سامان مہیا کیا جائے۔جب وصیت کا نظام صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہو گی بلکہ اسلام کے منشا کے ماتحت ہر فرد بشر کی ضرورت کو اس سے پور ا کیا جائے مکمل۔ہو گا تو 523