مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 451
اچھوت اُدھار کی تحریک کامیاب نہیں ہوئی۔اس کے جواب میں میری عرض یہ ہے کہ کسی کو جھوٹا کہنے کی ضرورت نہیں۔پرمیشور نے آپ کو آنکھیں دی ہیں کہ اس وقت ہندو سماج میں دوسرے دھرموں سے کتنے لوگ شدھ ہو کر آئے ہیں جن کی شدھی کی خبریں اخباروں میں جلی الفاظ میں چھپتی ہیں۔ان کی تعداد کم سے کم پانچ سو تو ہو گی مگر ان میں سے مجھے میں کے نام تو گن دیجئے جو آج بھی ہندو ہوں؟ مکانوں کی شدھی پر بڑا کیا جاتا ہے، تھی بھی وہ بڑی فخر کی بات مگر جو لوگ سچائی کو جانتے ہیں وہ بڑے متفکر ہیں۔ملکانوں کی شدھی کی جو رپورٹ وقتاً فوقتاً اخبارات میں چھپتی رہی ہے اس کے بموجب شدھ ہونے والوں کی گنتی ڈھائی لاکھ سے کم نہیں پہنچی مگر۔۔۔ان لوگوں میں بہت سے تو اپنی پہلی حالت میں واپس چلے گئے اور باقی بیچ میں لٹکے ہوئے کسی ٹھوکر کی راہ دیکھ رہے ہیں۔“ پروفیسر پریتم سنگھ ایم اے اپنی کتاب ”ہندو دھرم اور اصلاحی تحریکیں“ میں لکھتے ہیں: " آریہ سماج نے شدھی یعنی ناپاک کو پاک کرنے کا طریقہ جاری کیا۔ایسا کرنے سے آریہ سماج کا مسلمانوں کے ایک تبلیغی گروہ یعنی قادیانی فرقہ سے تصادم ہو گیا۔آریہ سماج کہتی تھی کہ وید الہامی ہیں اور سب سے پہلا آسمانی صحیفہ ہیں اور مکمل گیان ہیں قادیانی کہتے تھے کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور حضرت محمد خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔اس کدو کاوش کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی عیسائی یا مسلمان مذہب کی خاطر آریہ سماج میں شامل نہیں ہوتا۔مذہب کی تبدیلی بے معنی سی ہو گئی ہے۔آریہ سماج کا تعلیمی کام اب تک جاری ہے مگر سماج کا تبلیغی کام تقریباً بند ہے۔آریہ سماج کی تحریک خاطر خواہ ترقی نہ کر سکی۔پرانے ہندو جو بت پرست اور مقلد تھے وہ ویسے کے ویسے رہے اور کچھ انگریزی پڑھے لکھے لوگ جو سماج میں داخل ہوئے وہ مادیت میں پھنس کر دہر یہ ہو گئے ان کی تو وہی حالت ہے نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم“ مسلمان علما کا خراج تحسین: تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 387 و 388) زمیندار اخبار اپنی 24 جون 1923ء کی اشاعت میں رقم طرز ہے: ”جو حالات فتنہ ارتداد کے متعلق بذریعہ اخبارات علم میں آچکے ہیں ان سے صاف واضح ہے کہ مسلمانان جماعت احمدیہ اسلام کی انمول خدمت کر رہے ہیں اور ایثار اور کمر بستگی، نیک نیتی اور توکل علی اللہ ان کی جانب سے ظہور میں آیا ہے۔وہ اگر ہندوستان کے موجودہ زمانہ میں بے مثال نہیں تو بے اندازہ عزت اور قدر دانی کے قابل ضرور ہیں۔جہاں ہمارے مشہور پیر اور سجادہ نشین حضرت بے حس و حرکت پڑے ہیں اس الوالعزم جماعت نے عظیم الشان خدمت کر کے دکھا دی۔“ غیر مسلم اخبارات کا خراج تحسین: 1) اخبار پرتاب لاہور : دد (اخبار زمیندار لاہور 24 جون 1923 ء بیان شیخ نیاز علی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ لاہور ) مشکل یہ ہے کہ ہندوؤں کو اپنے ہی ہم وطنوں کی ایک جماعت کی طرف سے خطرہ ہے اور وہ خطرہ اتنا عظیم 451