مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 435
435 تعزیر) آرڈنینس 1984ء کے نام سے موسوم ہو گا۔-2 یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔0 آرڈینینس (Ordinance) عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہو گا۔اس آرڈینینس (Ordinance) کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود مؤثر ہوں گے۔ایکٹ نمبر 45 بابت 1860ء میں نئی دفعات: 298 B-298) اور 298 - ج (298) کا اضافہ۔مجموعہ تعزیرات پاکستان ایکٹ نمبر 45-1860 کے باب میں دفعہ 298 الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا : یعنی 298۔ب (298) بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال۔قادیانی گروپ لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی‘یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہوں) کا کوئی فرد -1 جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا نظر آنے والی کسی علامت کے ذریعے۔ر خلفائے راشدین یا (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کے علاوہ کسی اور شخص کو امیر المومنین یا خلیفہ المسلمین یا صحابی یا رضی اللہ عنہ کہہ کر پکارے، (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے علاوہ کسی اور کو اُم المؤمنین کے نام ب۔سے یاد کرے یا مخاطب کرے، ج اہل بیت کے علاوہ کسی فرد کو اہل بیت کہہ کر یاد کرے یا مخاطب کرے یا۔اپنی عبادت گاہ کو مسجد کے نام سے یاد کرے یا پکارے۔تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہوں) کو کوئی شخص جو زبانی یا تحریری الفاظ کے ذریعے یا کسی مرئی طریقے سے اپنی مذہبی عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا طرز کو اذان کہہ کر یاد کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان اذان دیتے ہیں تو اسے ایک ہی کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائیگی جو تین سال تک ہو سکتی ہے او ر وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہو گا۔جو 298 - ج (C-298) قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے۔قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص بالواسطہ یا بلا واسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا کسی مرئی طریقے سے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنی مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے تو اس کو کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہوسکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب ہوگا۔“