مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 261 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 261

261 طرح مسلسل چھ گھنٹے تک حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ نے ترجمہ لکھوایا یوں معلوم ہوتا تھا کہ ترجمہ نازل ہو رہا ہے۔مسلسل روانی کے ساتھ بغیر کسی جگہ رکے حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ ترجمہ لکھوا رہے تھے۔میز کے ایک طرف ناشتے کا سارا سامان موجود تھا۔حضور نے فرمایا آپ نے کچھ نہیں کرنا، ناشتہ میں خود تیار کر کے دوں گا۔ترجمہ کے دوران ہی ناشتہ کیا گیا۔دو تین دفعہ چائے بھی پی۔بریڈ (Bread) پر جام اور مکھن وغیرہ لگا کر بھی خود ہی دیا۔چائے بھی خود ہی بنا کر دیتے رہے اور ساتھ ساتھ ترجمہ بھی لکھواتے رہے۔خاکسار بھی کھانے پینے کے ساتھ ساتھ لکھتا رہا۔غرض چھ گھنٹے مسلسل کام کے بعد جب دو پہر کے دو بج چکے تھے تو فرمایا اب وضو کر لیتے ہیں اور نماز کی تیاری کرتے ہیں۔حضور رحمہ اللہ تعالیٰ وضو کیلئے باتھ روم میں گئے۔ادھر خاکسار کو پریشانی لاحق ہوئی کیونکہ تولیہ نہیں تھا۔ہم نے سب تو لیے ڈھلنے کیلئے بھجوائے ہوئے تھے، کوئی ٹشو پیپر بھی نہ تھا اتنے میں حضور انور وضو کر کے باہر تشریف لائے اور پوچھا تولیہ ہے؟ خاکسار نے عرض کی کہ ڈھلنے کیلئے بھجوائے ہوئے تھے اور کوئی ٹشو پیپر بھی نہیں ہے۔اس پر آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے بستر کی چادر لے کر چہرہ اور ہاتھ صاف کیے اور فرمانے لگے آج چادر ہی سہی۔اس دوران امیر صاحب ماریشس دو پہر کا کھانا لے کر پہنچ چکے تھے۔فرمانے لگے پہلے کھانا کھا لیتے ہیں۔نماز ظہر و عصر جمع کر کے عصر کے وقت میں پڑھ لیں گے۔اس وقت باقی ممبران بھی واپس آچکے ہوں گے۔چنانچہ وہیں بیٹھ کر حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے دوپہر کا کھانا تناول فرمایا۔4:30 بجے کے قریب حضور نمازوں کی ادائیگی کیلئے تشریف لائے۔نمازوں کے بعد کسی تفریحی مقام کیلئے روانگی تھی۔خاکسار کو بلایا اور فرمایا قرآن کریم لے کر گاڑی میں آجاؤ۔خاکسار حاضر ہو گیا۔حضور انور نے اپنے ساتھ پچھلی سیٹ پر بٹھا لیا اور ترجمہ لکھوانا شروع کر دیا۔یہ سفر قریباً ایک گھنٹہ جانے کا اور ایک گھنٹہ واپس آنے کا تھا۔ان دو گھنٹوں میں حضورانور رحمہ اللہ تعالیٰ مسلسل ترجمہ لکھواتے رہے۔راستہ کچا تھا اور سڑک بہت خراب تھی۔گاڑی کو بہت جمپ لگتے تھے۔میرے لئے لکھنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ہاتھ کبھی دائیں، کبھی بائیں اور کبھی اوپر نیچے جاتا تھا۔حضور انور یہ صورتحال ملاحظہ فرما رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔بالآخر فرمانے لگے: کیا لکھا ہے مجھے پڑھ کر سناؤ۔خاکسار نے جب من وعن پڑھ کر سنایا تو فرمایا ٹھیک ہے۔بس اس کے بعد پھر حضور انور ر کے نہیں مسلسل لکھواتے رہے۔رو و گھنٹے کے سفر کے بعد واپس پہنچے تو 5 منٹ کے بعد شہر روز ہل (Rose Hill) کی طرف روانگی تھی۔نماز مغرب و عشا مرکزی بیت الذکر میں ادا کرنے کے بعد صدر مجلس انصار اللہ کے گھر رات کا کھانا تھا۔یہ سفر بھی پون گھنٹہ سے زائد کا تھا۔اندھیرا بھی ہو چکا تھا۔چلنے سے قبل فرمایا کہ قرآن کریم لے کر گاڑی میں آجاؤ۔خاکسار حسب ارشاد حاضر ہو گیا۔فرمایا: ساتھ بیٹھ جائیں۔گاڑی کے اندر لائٹ جلا لی اور پھر مسلسل پون گھنٹہ تک ترجمہ لکھواتے رہے۔آخر بیت الذکر پہنچے۔نمازیں ادا کیں۔نماز کے بعد بیت الذکر سے باہر تشریف لائے تو فرمایا: آجاؤ ، بیٹھ جاؤ۔خاکسار نے عرض کی۔حضور جس گھر میں جانا ہے وہ صرف دو منٹ کے پر ہے۔فرمانے لگے اس وقت میں ہم ایک آیت ہی کر لیں گے اور اس وقت کا مصرف ہو جائے گا۔خاکسار ساتھ بیٹھ گیا۔ڈیڑھ دو منٹ کے بعد میزبان کے گھر پہنچ چکے تھے۔اس دوران حضور نے تین آیات کا ترجمہ لکھوایا اور فرمایا: دیکھ ایک آیت کی بجائے تین آیات ہو گئی ہیں۔صبح سے مسلسل لکھائی کرنے کی وجہ سے خاکسار کی انگلیاں جواب دے رہی تھیں اور درد کر رہی تھیں۔اب مجھے فکر تھی کہ ابھی یون گھنٹہ کی واپسی بھی ہے لیکن یہ سوچ کر اطمینان ہو گیا کہ چونکہ یہ خدا کا کام ہے اس لئے خود ہی توفیق بھی دے گا۔بہر حال جب حضور رحمہ اللہ کھانے سے فارغ ہو کر جانے کیلئے باہر تشریف لائے سفر وہ