مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 125 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 125

الله بشارت ہے کہ مسیح آئیں گے، ان کتابوں میں لکھا ہے کہ مسیح کی یہ علامتیں ہوں گی، مہدی کی یہ علامتیں ہوں گی۔نبی اکرم صلقہ نے بڑے پیار سے فرمایا کہ اِنَّ لِمَهْدِيَّنَا ہمارے مہدی کے لئے خدا تعالیٰ نے اس کے صداقت کے دو نشان ایسے مقرر کئے ہیں جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی کی صداقت کے لئے مقرر نہیں کئے۔وو اس فقرے میں بڑا پیار ہے اور اس میں مہدی کی نمایاں اور ارفع حیثیت بتائی گئی ہے۔غرض حدیث کی رُو سے نبی اکرم مطلقہ کو مہدی مسیح سے جو پیار ہے اسے دیکھ کر آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ مہدی کا یہ کام ہو گا کہ اسلام کو تمام بدعات سے پاک کر کے اس کا جو چمکدار چہرہ ہے اور روحانی حسن سے بھری ہوئی جو اصلی شکل ہے اسے دنیا کے سامنے پیش کرے گا لیکن دنیا کو اسلام کے غبار آلود چہرہ کو دیکھنے کی اتنی عادت پڑ چکی ہو گی کہ وہ کہیں گے کہ تم کوئی نیا دین لے آئے ہو ہم تو اسلام اسے نہیں سمجھتے۔غرض آنحضرت ملالہ نے فرمایا کہ مہدی دین اسلام کو بدعات سے پاک کر کے پیش کرے گا اور لوگ یہ کہیں گے کہ تم نے اپنا نیا دین بنا لیا ہے۔مہدی اور مسیح کے متعلق سینکڑوں ایسی احادیث ہیں جو پچھلے دو چار سال میں ہمارے سامنے آئیں ہیں۔جب نئی کتابیں چھپ کر ہمارے سامنے آئیں تو وہ احادیث بھی سامنے آگئیں خصوصاً وہ کتابیں جو ایران سے بڑی خوبصورت چھپی ہوئی آئیں ہیں۔انہوں نے بڑی محنت سے اس روایات کو اکٹھا کیا ہے اور سنبھال کر رکھا ہوا ہے جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ہر صدی پر مجدد آنے کی جو حدیث ہے وہ حدیث کی صرف دو تین کتابوں میں ہے مگر کسی حدیث کی کتاب میں مجھے کوئی ایسی حدیث نہیں ملی جس میں یہ کہا گیا ہو کہ مجدد کی علامت یہ ہے یا اس کے لئے یہ نشان ظاہر کیا جائے گا۔کسی ایک جگہ بھی نبی اکرم مطلقہ نے ایسا نہیں فرمایا اور نہ قرآن کریم میں اس کا ذکر آیا ہے۔میں نے جب اس حدیث پر غور کیا تو ہو ا کہ اس حدیث میں یہ ہے ہی نہیں کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئے گا۔اس حدیث میں تو کہ ہر صدی کے سر پر ایک ” من “ آئے گا یعنی ایسے نائب رسول ملالہ آئیں گے جو تجدید دین کا کام کریں گے۔” من “ کے معنی عربی لغت کے لحاظ سے ایک کے بھی ہیں اور دو کے بھی ہیں اور کثرت کے بھی ہیں پس اگر کثرت کے معنی لئے جائیں تو یہ معنی ہوں گے کہ ہر صدی کے سر پر کثرت سے ایسے لوگ موجود ہوں گے (یعنی آنحضرت ملالہ کے خلفا اور اخیار و ابرار ) جو دین اسلام کی خدمت میں لگے ہوں گے۔اس میں کسی ایک شخص واحد کا کوئی ذکر نہیں ہے۔مجھے معلوم ہے صلى الله کی زبان وو 66 یہ ہے الفضل 21 مئی 1978ء) سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں ایک بنیادی اصول بتایا ہے اور وہ یہ کہ حدیث یعنی وہ ارشاد جو نبی سے نکلا اور پھر اسے روایہ میں محفوظ کیا گیا۔وہ ذرہ بھر بھی نہ قرآن پر کوئی چیز زائد کرتا اور نہ کم کرتا ہے اس اصول کو تم اچھی طرح سے سمجھ لو اور ذہن میں رکھو۔اب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس کے شروع سے آخر تک گویا سارے قرآن میں تجدید دین یا مجدد کا کوئی لفظ نہیں ملتا۔تب ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو دوسری بات بتائی اس کے مطابق غور کرنا پڑے گا۔آپ علیہ السلام نے فرمایا نبی کریم ملالہ نے جو بھی فرمایا ہے وہ قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت کی تفسیر ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ محمد صل للہ کا بڑا ارفع اور بلند مقام تھا۔خدا تعالیٰ سے آپ علم سیکھتے تھے۔یہ تو ہم مانتے ہیں کہ آپ قرآن کریم کی کسی آیت کی اتنی دقیق تفسیر کر جائیں کہ عام آدمی کے دماغ کو اس کے ماخذ کا پتہ نہ لگے اور سمجھ میں نہ آئے کہ یہ کس آیت کی تفسیر ہے۔آپ نے فرمایا کسی کو سمجھ آئے یا نہ آئے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ قرآن کریم کی کسی 125