خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 56 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 56

۵۶ اس لئے ظاہر تھا کہ خلیفہ المسیح الاول کی وفات کے بعد وہ خودہی جماعت کے نگران متصور ہو سکتے تھے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تمثیل کے آئینہ میں ” بڑے بڑے پرانے مرید جو تھے ان کے دل میں خیال گزرا کہ چڑیا ہمارے سر پر بیٹھے گی“۔لیکن حالات ایسے ہو گئے تھے کہ انہیں یقین تھا کہ اگر یہ فیصلہ اب ہوا تو یہ چڑیا ان کے سر پر نہیں بیٹھے گی۔اس لئے انہوں نے یہ ترکیب سوچی کہ خلیفہ کے انتخاب کو معرض تأخیر میں ڈال کر چڑیا کو قابو کرنا چاہئے۔مگر یہ حقیقت ان سے اوجھل رہی کہ خدا تعالیٰ کے کاموں پر کسی کو اختیار نہیں ہوسکتا۔اس کی مرضی کو کوئی قابو نہیں کر ย سکتا۔چنانچہ اکابر صحابہ ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہلِ بیت اور جماعت کی اکثریت ،سب اس عقیدہ کے حامل تھے کہ جلد از جلد خلیفہ کا انتخاب ہو اور سنت کے مطابق خدا تعالیٰ کا قائم کردہ خلیفہ ہی حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کی نماز جنازہ پڑھائے اور جماعت دوبارہ اسلام کے قانون کے مطابق ایک ہاتھ پر جمع ہو۔اس ماحول اور ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی بیان فرماتے ہیں: ظہر کے بعد میں نے اپنے تمام رشتہ داروں کو جمع کیا اور ان سے اختلاف کے متعلق مشورہ طلب کیا۔بعض نے رائے دی کہ جن عقائد کو ہم حق سمجھتے ہیں، ان کی اشاعت کے لئے ہمیں پوری طرح کوشش کرنی چاہئے۔اور ضرور ہے کہ ایسا آدمی خلیفہ ہو جس سے ہمارے عقائد متفق ہوں۔مگر میں نے سب کو سمجھایا کہ اصل بات جس کا اس وقت ہمیں خیال کرنا چاہئے وہ اتفاق ہے۔خلیفہ کا ہونا ہمارے نزدیک مذہباً ضروری ہے۔پس اگر وہ لوگ اس امر کو تسلیم کر لیں تو پھر مناسب یہی ہے کہ اوّل تو عام رائے لی جاوے۔اگر اس سے وہ اختلاف کریں تو کسی ایسے آدمی پر اتفاق کر لیا جائے