خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 55 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 55

۵۵ و, لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَ ابْنِهِ وَ أَعْهَدَ أَنْ يَقُوْلَ الْقَائِلُوْنَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَدُّوْنَ ثُمَّ قُلْتُ يَأْبَى اللَّهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ ( بخاری کتاب المرضى باب قول المريض اتی وجع وار أساه ) کہ میں نے ایک دفعہ ارادہ کیا تھا کہ ابو بکر اور آپ کے بیٹے کو بلاؤں اور خلافت کی وصیت لکھ دوں تا کہ باتیں بنانے والے باتیں نہ بنا سکیں اور اس کی تمنا کرنے والے اس کی خواہش نہ کریں۔پھر میں نے کہا کہ اللہ تعالی لازماً ( ابو بکرؓ کے علاوہ کسی بھی دوسرے کا ) انکار کر دے گا اور مومن بھی اسے ضرور رڈ کر دیں گے۔آنحضرت سلیم کا یہ قول اس قانون خداوندی اور عقیدہ اسلام کا روشن ترین اظہار ہے کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔یہ ” چڑیا اس کے سر پر بیٹھتی ہے جس پر بیٹھنے کا خد اتعالیٰ اسے حکم دیتا ہے۔آنحضرت دم کے بعد اسی مرضی خدا کے مطابق حضرت ابو بکر بھی خلیفہ بنے اور آپ کے بعد دیگر خلفاء بھی۔پھر دور آخرین میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوئی تو ہر خلیفہ کا انتخاب اسی قانونِ خداوندی کے مطابق عمل میں آیا۔دور آخرین میں اس کی ایک مثال جو اس قانون البہی کوعملی رنگ میں روشن کرتی ہے ، یہ ہے کہ حضرت خلیفة امسیح الاوّل کی وفات کے بعد جماعت میں سب سے بڑا سوال خلیفہ ثانی کا انتخاب کا تھا۔اس وقت یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ مولوی محمد علی صاحب ( جو بعد میں لا ہوری جماعت کے امیر بنے ) یہ کوشش کرنے لگے کہ فی الحال جماعت کسی ایک خلیفہ کے ہاتھ پر جمع نہ ہو بلکہ کچھ عرصہ انتظار کرلیا جائے اور جب جماعت اچھی طرح سوچ لے تو پھر اس بارہ میں کوئی اقدام کیا جائے۔اس بارہ میں وہ اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ حضرت خلیفہ اسی الاول کی علالت کے ایام میں ہی تگ ودو کرتے رہے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ صدرانجمن احمد یہ کے سیکرٹری ہونے کی وجہ سے انجمن کو جماعت کا نگران بنانے کی کوشش میں تھے۔چونکہ وہ صدر انجمن کے سیکرٹری تھے