خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 416 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 416

۴۱۲ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ اپنی پسند کے آدمیوں کو مسلط کرنے کا الزام : ایک الزام خلیفہ وقت پر ایسا بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے آدمیوں کو ( جومعترضین کی نظر میں نا اہل ہوتے ہیں ) جماعت پر مسلط کرتا ہے۔یہ الزام حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل پر بھی لگایا گیا۔یہ اُسی نوعیت کا الزام ہے جو حضرت عثمان کے مبارک عہد میں ایک خطر ناک وباء کی صورت میں پھوٹا تھا۔جسے تمام عالم اسلام غلط اور مردود قراردیتا ہے۔دراصل ہر زندہ حقیقت کے ساتھ موت کی منحوس صورتیں ہمیشہ نبرد آزما رہی ہیں، اور رہیں گی اور ان وباؤں کے ساتھ مقابلہ میں جب بھی کوئی زندہ جماعت غالب آتی ہے تو اس نوعیت کے دوسرے فتنوں کے مقابلہ کی پہلے سے بڑھ کر طاقت اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔اور اس ازلی و ابدی حقیقت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا کہ ہر زندہ حقیقت کو موت یا اس سے مشابہ قوتوں کے ساتھ نبرد آزما رہنا پڑتا ہے اور اس میں اس کے ارتقاء اور تحسین عمل کا راز مضمر ہے۔قرآنِ کریم اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: تَبَارَكَ الَّذِي بَيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ ) (الملک: ۳،۲) ترجمہ: بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہر قسم کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ تمہیں آزمائش میں ڈال کر معلوم کرے کہ تم میں سے کون بہترین عمل کرنے والا ہے۔اور وہ غالب اور بہت بخشنے والا ہے۔حضرت خلیفہ اصبح الا ول پر یہ الزام عائد کرنے والوں کے پیش نظر بالخصوص حضرت صاحبزادہ مرزامحموداحد صاحب کی ذات تھی جن پر حضرت خلیفہ امسیح غیر معمولی اعتماد فرماتے تھے اور