خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 313 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 313

بیعت میں یہ الفاظ بھی شامل تھے کہ " وَلَا تَعْصِيْنَنِي فِي مَعْرُوفٍ “ اور تم کسی معروف میں میری نافرمانی نہ کرو گی۔ظاہر ہے کہ آپ نے معروف کی یہ شرط قرآن کریم کے حسب ذیل حکم کی تعمیل میں عہدِ بیعت کے ساتھ لگائی تھی۔۔۔وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعُهُنَّ (المتن: ۱۳) کہ وہ معروف امور میں تیری نافرمانی نہیں کریں گی۔اس شرط کا مقصد یہ نہیں تھا کہ نعوذ باللہ آپ بسا اوقات غیر معروف حکم بھی ارشاد فرمایا کریں گے تو اس کا ماننا ضروری نہیں ہوگا۔ایسا تصور بالبداہت کفر ہے اور بیعت کے بنیادی تصور سے متصادم ہے۔اس اصل کو بیان کرتے ہوئے حضرت حکیم مولوی نور الدین خلیفتہ المسیح الاول بیان فرماتے ہیں: ایک اور غلطی ہے وہ اطاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں اطاعت نہ کریں گے۔یہ لفظ نبی کریم کے لئے بھی آیا ہے وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايِعُهُنَّ ( امتحن : ۱۳) اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ میل می کنیم کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنا لی ہے۔اسی طرح حضرت صاحب ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام) نے بھی شرائط بیعت میں طاعت در معروف لکھا ہے۔اس میں ایک ستر ہے۔میں تم میں سے کسی پر ہرگز بدظن نہیں۔میں نے اس لئے ان باتوں کو کھولا تا تم میں سے کسی کو اندر ہی اندر دھوکہ نہ لگ جائے۔“ ( خطبات نور صفحه ۸۱ خطبہ عید الفطر فرموده مورخه ۱۶ / اکتوبر ۱۹۰۹ ء مطبوعہ احمدیہ بلڈ پور بوہ مارچ ۱۹۶۹ء) اس آیت کی طرح قرآن کریم کی دیگر متعدد آیات نے بھی اس سچائی کو قطعی طور پر ثابت فرمایا ہے کہ کوئی حکم اللہ تعالیٰ کا ہو یا رسول اللہ یم کا یاکسی خلیفہ راشد کا، وہ بُرائی پر استوار نہیں ہوا۔یہ سچائی صرف ایک اعتقادی بنیاد پر ہی قائم نہیں ہے بلکہ واقعاتی اور تاریخی شواہد پر بھی استوار ہے۔اس بحث سے یہ قطعی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اسلام کا ہر حکم معروف ہے اور نیکی ہے۔وہ بُرائی کا نہ حکم دیتا