خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 314 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 314

ہے، نہ اس کی طرف معصیۃ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی منسوب کی جاسکتی ہے۔ایک اور پہلو جہاں تک کسی امیر یا لیڈر کی اطاعت کا تعلق ہے، تو آنحضرت ﷺ نے اپنے اس حکم میں یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کوئی اور شخص جو تم پر نگران مقرر ہو، اگر وہ کوئی ایسا حکم دیتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی معصیت لازم آتی ہے تو اس کی صرف اس حد تک تعمیل نہیں کی جائے گی۔لیکن اس کے معروف حکم کی نافرمانی نہیں کی جائے گی۔اس بارہ میں حسب ذیل واقعہ بھی ہمارے لئے رہنمائی مہیا کرتا ہے۔یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس میں امیر کی اطاعت میں کیا گیا عمل معصیۃ الرسول ہونے کی وجہ سے آنحضرت ام کے لئے تکلیف اور اذیت کا موجب بنا۔چنانچہ فتح مکہ کے بعد مکہ میں قیام کے دوران آنحضرت ہم نے شوال ۸ھ میں حضرت خالد بن ولید کوقبیلہ بنو کنانہ کی شاخ بنو جذیمہ کی طرف جو مکہ کے قریب یکمکم کی جانب آباد تھے، اسلام کی اطاعت قبول کرنے کے پیغام کے ساتھ بھجوایا۔ان انقلابی حالات میں بنو جذیمہ کی طرف سے رد عمل کے خدشہ سے آپ نے تین سو پچاس افراد کی فوج بھی ان کے ہمراہ بھجوائی۔ان ساڑھے تین سو افراد میں مہاجرین وانصار کے ساتھ قبیلہ بنوسکیم کے افراد بھی تھے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ جو اس سریہ میں شامل تھے، بیان فرماتے ہیں : ہم بنو جذیمہ کو اسلام کی اطاعت میں آنے کی دعوت دی۔انہوں نے اس دعوت کو قبول کیا لیکن” أسلمنا“ کہ ہم مطیع ہوتے ہیں، کہنے کی بجائے ”صَبَـانَا ، صَبَانَ “ کہا کہ ہم صابی ہیں ہم صابی ہیں۔ان کے ان الفاظ اور اس طرز اظہار سے حضرت خالد نے اندازہ لگایا کہ انہوں نے اطاعت قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور وہ مقابلہ کا ارادہ رکھتے ہیں۔لہذا آپ نے ان سے جنگ شروع کر دی جس کے نتیجہ میں ان کے بہت سے افراد قتل ہوئے اور بہت سے قیدی بھی بنائے گئے۔ہم میں سے ہر ایک کے سپر د ایک ایک قیدی کر دیا گیا۔ایک روز حضرت خالد نے ہم سب کو حکم دیا کہ ہر کوئی اپنے اپنے قیدی کو قتل کر دے۔اس پر میں نے آپ سے کہا کہ میں اپنے قیدی کو ہرگز قتل نہیں کروں گا بلکہ ہم میں سے کوئی بھی