خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 289 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 289

۲۸۵ ہمیں اس سے سروکار نہیں کہ انہوں نے کیا الم غلم لکھا ہے۔اعتراض اس بات پر ہے کہ بات خلافت علی منہاج النبوۃ کی کرتے ہیں لیکن جو تصو ر اس کا پیش کرتے ہیں وہ بالکل مسخ شدہ ہے اور کلیہ منافی تصورِ خلافت اسلامیہ ہے، جس میں ان کی اپنی ہوس اقتدار اور خود غرضی جھانکتی نظر آتی ہے۔اب چوہدری رحمت علی صاحب کی بھی سنئے ، وہ فرماتے ہیں : منصب خلافت پر متمکن رہنے کی تین پانچ سال وغیرہ کی کوئی قید نہیں۔خلیفہ دوہی صورتوں میں معزول و برخاست کیا جا سکتا ہے۔ایک تو اس صورت میں کہ وہ قرآنی معیار اہلیت سے محروم ہو جائے اور دوسرے اس صورت میں کہ وہ ذاتی وجوہات کی بناء پر اس منصب جلیلہ کی ذمہ داریاں نبھانے سے خود معذرت کر لے۔“ وو خلافت ہمارے جملہ مسائل کاحل، صفحه ۳۵، از رحمت علی ، چوہدری ) کوئی ان سے پوچھے کہ اگر ان کا نام نہاد خلیفہ قرآنی معیار اہلیت سے محروم ہوتا ہے تو اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ وہ معیار سے گر گیا ہو۔غالبا یہ اختیار وہ خود اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں تا کہ اس خلیفہ کے اوپر وہ خود ایک Super خلیفہ کے طور پر بیٹھ جائیں کیونکہ معیار اہلیت سے محرومی کا فیصلہ کرنے والا بہر حال اس سے بالا اور اعلیٰ ہونا ضروری ہے جو اس سے بلند مقام پر فائز ہو۔یہ الگ بحث ہے کہ خلیفہ سے بڑا یا نبی ہو سکتا ہے یا خدا تعالی۔۔۔۔اور سوائے خدائے واحد و یگانہ کے خدائی مقام پر کوئی فائز نہیں ہو سکتا اور نبوت کے ہوتے ہوئے خلافت کا تصوّر نہیں ہوتا۔خلافت کا قیام ہوتا ہی نبی کے وصال کے بعد ہے۔اس لئے خلیفہ سے بڑا صرف خدا ہی ہوسکتا ہے۔لیکن اصل سوال پھر اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ اگر وہ خلیفہ جو اُن کے لائحہ عمل کے مطابق ہنگاموں، جلوسوں ، گولیوں ، توڑ پھوڑ اور کشت وخون کے بعد بنے گا ، قرآنی معیار سے محروم بھی ہو جاتا ہے لیکن برضا و رغبت اس منصب سے ہٹنے کا نام بھی نہیں لیتا تو پھر !!! ہنگامے مارکٹائی توڑ پھوڑ قتل و غارت یعنی پھر اسی عمل کا اعادہ ہو گا جس کے لئے ڈاکٹر