خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 288 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 288

۲۸۴) یعنی آپ اسے معزول کر دیتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ وہ مسلط رہے گا اور ان کا الیکشن ا کارت جائے گا اور چار پانچ سال کی ٹرم کی تعین بھی بھاڑ میں جائے گی۔کہتے ہیں کہ تادم مرگ خلیفہ رہنا آپ پر واجب نہیں کیا گیا کیونکہ ایک ٹرم معین کر دینا حرام نہیں ہے۔یہاں سوال حلال و حرام کا نہیں۔سوال یہ ہے کہ کسی کو اختیار کس نے دیا ہے کہ خلیفہ بنائے یا اسے معزول کرنے کے فیصلے کرے یا اس کی خلافت کے دورانیہ کو معین کرے۔خلافت کے اوپر مزید کسی سُپر خلیفہ کا تصور اسلام میں تو نہیں پایا جاتا ، ڈاکٹر صاحب موصوف نہ جانے کس دین کی باتیں کرتے ہیں؟ خدا تعالیٰ کے فرمودات کے مطابق یہ صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے کہ وہ کب ، کہاں، اور رکن میں خلافت قائم کرتا ہے اور کس کو خلیفہ بناتا ہے۔یہ اختیارات خدا تعالیٰ نے کسی اور کو نہیں دیئے۔خدا تعالیٰ جب کسی کو خلافت علی منہاج النبوۃ کے منصب پر متمکن فرماتا ہے تو پھر اس پر کی مرضی کے آگے کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ دم مار سکے دنیا کی کوئی طاقت خلیفہ وقت سے خلعت خلافت نہیں چھین سکتی۔جب حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ خلافت کی مسند سے اتر جائیں تو آپ نے خدا تعالیٰ کے جلال کی پناہ میں آتے ہوئے ، منصب خلافت کی ایک بنیادی شرط کو واضح کرتے ہوئے فرمایا : مَا كُنْتُ لَا خُلَعَ سِرْبَالًا سَرْ بَلَنِيْهِ اللَّهُ تَعَالَى 66 کہ میں وہ ردائے خلافت کس طرح اتار سکتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے۔یعنی جو منصب خدا تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اسے چھوڑنے کا حق خود ا سے ہے جسے وہ منصب عطا کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی اور طاقت اسے معزول کر سکتی ہے۔بہر حال خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خلیفہ میں بناتا ہوں مگر ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تعلی دیکھئے کہ کہتے ہیں کہ ہم نے طے کر لیا ہے کہ خلیفہ کے دور خلافت کی مدت چار یا پانچ سال ہے۔