خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 287 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 287

(۲۸۳) مستقلاً عارضی خلافت یہ مدعیانِ قیامِ خلافت صرف اپنی مزعومہ اور نام نہا د خلافت کے قیام کی ہی ترکیبیں نہیں بتاتے بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب کوئی خلیفہ بن جائے تو اس سے دل بھر جانے پر اس سے جان کس طرح چھڑانی ہے۔چنانچہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کہتے ہیں: خلیفہ جو براہ راست منتخب ہوگا جتنی اس کی مدت ہے چارسال یا پانچ سال اتنی مدت وہ رہے گا۔الا یہ کہ قانون کے مطابق اس کی معزولی کا جواز پیدا ہو جائے۔“ نظام خلافت۔۔۔۔۔صفحه ۳۸ از ڈاکٹر اسرار احمد ) ایک خلیفہ پر سے اگر عوام کا اعتما داٹھ جائے تو اس کی تبدیلی کا کیا طریقہ ہو گا ؟“ اس سوال کے جواب میں انہوں نے فرمایا : ” وہ تو میں نے بتا ہی دیا ہے کہ جب ہم نے یہ طے کر لیا کہ اس کی مدت چار سال یا پانچ سال کی ہے تو ٹرم (Term) پوری کرنے کے بعد دوبارہ الیکشن ہونے ہی ہیں۔خلافت راشدہ میں تو یہ تھا کہ ایک شخص منتخب ہو گیا اور تا دمِ مرگ وہ خلیفہ رہا۔لیکن یہ آپ پر واجب نہیں کیا گیا کیونکہ ایک ٹرم معتین کر دینا حرام نہیں۔دوسرا معاملہ عوام کا اعتما داٹھنے کا نہیں بلکہ معزولی کا ہے۔اگر آپ اسے معینہ مدت کے اندر معزولی کر دیتے ہیں تو ہٹ جائے گا ورنہ نہیں۔“ نظام خلافت۔۔۔۔۔۔صفحه ۳۸ ،۳۹، از ڈاکٹر اسرار احمد )