خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 285
۲۸۱ تمہارے اندر خلافت قائم فرمائیں گے۔یہ خلافت کسی تحریک کے ذریعہ ہر گز قائم نہیں ہوگی۔لیکن پھر بھی اگر بفرض محال ہم ایک لمحہ کے لئے ان کی بات مان لیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک حکمران طاقت پکڑتا ہے لیکن دوسرے ملک برضا و رغبت اس کے ساتھ مدغم ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو بقول ان کے وہ حکمران طاقت کا سہارا لے گا۔اگر وہ طاقت کا سہارا لیتا ہے تو دوسرے ممالک مل کر اس کو شکست سے دو چار کر دیں گے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو اس سے خطرہ ہوگا۔یا پھر کسی بڑی طاقت کی مدد سے اس کی پٹائی کر دی جائے گی۔اس کی مثال خلیج کی گزشتہ جنگ کی صورت میں بھی سامنے آچکی ہے۔بعینہ اسی طرح خلافت کا علمبر دار حکمران پٹ کر رہ جائے گا اور چوہدری رحمت علی صاحب کی بے ڈھنگی نامعقول خلافت قائم ہونے کی بجائے زندہ درگور ہو جائے گی اور امت کو ایک بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔پھر وہ کہتے ہیں : اگر یہ صورت کارگر نہ ہو تو آخری صورت یہ رہ جاتی ہے کہ عوام سڑکوں پر نکل آئیں اور جملہ سر برا ہوں کو مجبور کر دیں کہ وہ نہ صرف قیام خلافت پر متفق ہوں بلکہ بالفعل ایسا کر گزریں۔“ ان کے اس پروگرام کے پیش نظر پاکستان کو مثال کے طور پر سامنے رکھیں۔اس کے وہ حکمران جو خلافت کے قیام پر آمادہ نہیں ، کیا وہ عوام کو سڑکوں پر برداشت کریں گے ؟ کسی بھی مذہبی یا سیاسی کشمکش کے لئے عوام جب سڑکوں پر نکلے ہیں تو مار دھاڑ ، توڑ پھوڑ اور جلاؤ بجھاؤ کے علاوہ اور کیا حاصل ہوا ہے؟ چنانچہ اب بھی جب عوام سڑکوں پر نکلیں گے تو محض بھاری جانی و مالی نقصانات کے سوا کوئی نئی چیز بہر حال سامنے نہیں آئے گی۔اس سے قطع نظر کہ ایسے جلوس کے ساتھ کیا ہوگا ، کیا نہیں ہوگا ، اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ اس عمل سے کسی قسم کی خلافت قائم ہو بھی جائے تو چو ہدری رحمت علی صاحب کو مثلاً خلیفہ بنا بھی دیا جائے تو وہ بھی تو عوام الناس کے رحم و کرم پر ہی رہیں گے کیونکہ کل ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے اُکسانے پر وہ پھر سڑکوں پر نکل آئیں گے اور انہیں خلیفہ بنا دیں گے اور یہ ڈرامہ