خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 284
حکمران سے مخفی ہے کہ اگر وہ یہ طریقہ از خود اختیار کرنے سے قاصر رہے تو بصورت دیگر بھی اسے ایک نہ ایک دن قیادت کو خیر باد کہنا ہے۔ثانیاً : موجودہ مسلمان حکمرانوں میں سے کوئی اس قدر طاقت پکڑ لے یا ان میں سے بالفعل کسی کو اپنے ملک میں بطور خلیفہ نصب ہونے کا شرف حاصل ہو جائے کہ وہ دوسرے چھوٹے بڑے مسلم ممالک کو کسی نہ کسی طور ایک مملکت میں مدغم کر گزرے۔اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں جن میں بہ رضا و رغبت ، بذریعہ طاقت یا کوئی اور انداز جو بھی اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے میں ممد و معاون ہو اختیار کیا جا سکتا ہے۔مقصد واضع تر ہوتا گیا تو بظاہر یہ مشکل کام بھی آسان ہو جائے گا۔ثالثاً : مندرجہ بالا دونوں صورتوں کے کارگر نہ ہونے کی صورت میں تیسری اور آخری صورت یہ رہ جاتی ہے کہ پوری اسلامی دنیا کے عوام جب دار السلام کے قیام کو اپنا صح نظر بنا لیں تو سڑکوں پر نکل آئیں اور جملہ سر برا ہوں کو مجبور کر دیں کہ وہ ہر قیمت پر بحالی خلافت پر نہ صرف متفق ہو جائیں بلکہ ایسا بالفعل کر گزریں۔یادر ہے ہر سہ صورتوں میں جو 66 بیان ہو ئیں پہلے چند ماہ تو جیسی تیمی ہوئی عارضی خلافت قائم ہوگی۔" خلافت ہمارے جملہ مسائل کا حل صفحہ ۱۱، ۱۱۲، از رحمت علی چوہدری۔: مرکزی تبلیغ اکیڈمی اچھرہ ، لاہور ۱۹۹۱ء ) " جیسی تیسی عارضی خلافت کے اظہار سے ہی انہوں نے اپنے اندرونی فتح کو ظاہر کر دیا ہے کہ وہ لوگ خلافتِ حقہ اور خلافت کے پاک تصور سے محض مذاق کرتے ہیں اور اس کے تقدس کو پامال کرنے کے درپے ہیں۔ان کی یہ تحریر بتاتی ہے کہ ان کے تصور عزائم فتیح ہیں اور وہ اپنے ان احمقانہ خوابوں کی جاہلانہ تعبیروں کے منتظر ہیں۔یہ محض ان کی خود غرضانہ تعلیاں ہیں جن کا سنت اللہ سے دور کا بھی تعلق نہیں۔خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے ” لَيَستَخلِفَنَّهُم “ ہم