خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 279
۲۷۵ تعالیٰ نے پاکستان کی سرزمین کو نظام خلافت کے احیاء کے لئے پسند فرمایا ہے۔“ (’ پاکستان میں نظامِ خلافت، صفحہ ۳۳، ڈاکٹر اسرار احمد: ناشر ناظم مکتبہ مرکزی انجمن خدام القرآن ، لاہور ۱۹۹۴ء ) پھر وہ لکھتے ہیں : ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے اسے سرزمین عرب میں قائم کیا پھر وہ تدریج کے ساتھ آگے پھیلتا چلا گیا۔اب بھی کسی ایک ملک سے ہی آغاز ہوگا۔“ یعنی یہ یقینی بات ہے کہ کسی ایک ملک سے ہی آغاز ہو گا۔دنیا کے ممالک سے باہر کسی اور جگہ اس کا آغاز نہیں ہوگا! یہ تو انہوں نے کہہ دیا لیکن پھر خیال آیا اس سے لوگوں کی توجہ کسی اور اسلامی ملک کی طرف مبذول ہو گئی تو مشکل پڑ جائے گی چنانچہ فورا گویا ہوئے کہ : مسلمانوں کی گزشتہ چارسوسال کی تاریخ کے جائزے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی سرزمین کو نظام خلافت کے احیاء کے لئے پسند فرمایا ہے۔“ اس طرح یہ اپنی مزعومہ خلافت کو پاکستان تک کھینچ لائے لیکن پھر ڈرے کہ معاملہ کہیں بکھر ہی نہ جائے۔پاکستان میں بھی تو کئی تنظیمیں ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ان کا تیار کردہ منصو بہ کوئی اور اچک لے اور ان کی اسکیم دھری کی دھری رہ جائے۔چنانچہ انہوں نے اس بات کو اور آگے بڑھاتے ہوئے ذرا لپیٹ کر اس طرح لکھا کہ : اس کے لئے انقلابی عمل ناگزیر ہے جسے میں بار بار دھراتا ہوں تا کہ ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو جائے اور اس کا عمومی طریقہ یہی ہے کہ جو انقلابی پارٹی ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ وہ تنظیم اسلامی ہو۔اللہ کرے یہ کام ہمارے ہاتھوں ہو جائے یا اگلی نسل کے ہاتھوں ہو۔جو بھی ہوں گے یہ ان کی ذمہ داری ہوگی کہ پہلے حکومت بنائیں۔“ وہ کہتے ہیں : ” ہو سکتا ہے وہ تنظیم اسلامی ہو۔اللہ کرے یہ کام ہمارے ہاتھوں ہو جائے۔“ ان کی اس تمنا کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کتاب کے سرورق کو دیکھیں تو وہاں لکھا ہے :