خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 278
۲۷۴ گردنوں میں وہ بختی اور سروں میں وہ نخوت باقی نہ رہی جو ظہور حق کے 66 بعد انسان کو اس کے آگے جھکنے سے باز رکھتی ہے۔“ الجہاد فی الاسلام ، صفحہ ۱۷۳ ۱۷۴، از سید ابوالاعلیٰ مودودی) نعوذ بالله من ذالک - نعوذ بالله من ذالک۔خدا کی قسم ! مودودی صاحب نے جو کچھ لکھا ہے،جھوٹ لکھا ہے۔خدا تعالیٰ کا کلام یہ ثابت کرتا ہے کہ مودودی صاحب کا یہ بیان جھوٹا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ، آپ کی پاک سیرت ، آپ کا پاکیزہ نمونہ، آپ کا پُر نور اسوۂ حسنہ ثابت کرتا ہے کہ یہ قطعی جھوٹ ہے کہ نعوذ باللہ، نعوذ باللہ آپ نے تلوار کے ذریعہ معاشرہ کی اصلاح کی۔یہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اتنا بڑا بہتان ہے کہ جس کی توقع صرف اور صرف رسول اللہ سلم کے دشمن سے ہی کی جاسکتی ہے۔آپ کے کسی پیروکار سے ایسی مکر وہ بات کی توقع نہیں کی جاسکتی۔سردار قد وسیاں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ئیں تھیں، پاک تعلیم اور پاک سیرت تھی ، آپ کا نور تھا ، آپ کا اسوۂ حسنہ تھا ، آپ کی قوت قدسیہ تھی جس نے معاشرہ کی اصلاح کی تھی ، نہ کہ تلوار نے۔جو چیز طاقت اور زور کے بل بوتے پر قائم کی جائے وہ زبر دستی جسموں پر تو قائم ہوسکتی ہے روحوں پر ہر گز اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ہاں دل اور روح اگر ایمان اور عمل صالح سے ہوں تو ان میں خدا تعالیٰ کی بادشاہت اور خلافت اتر سکتی ہے۔معمور آگے دیکھیں یہی ڈاکٹر صاحب کس طرح خود غرضی کا دامن پکڑ کر اس طرح آگے چلتے ہیں کہ ان کی خود غرضی کی بلی تھیلے سے باہر آ جاتی ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں : نظام خلافت کیسے قائم ہوگا ؟ کس تدریج سے قائم ہو گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے اسے سرزمین عرب میں قائم کیا پھر وہ تدریج کے ساتھ آگے پھیلتا چلا گیا۔اب بھی کسی ایک ملک سے ہی آغاز ہوگا۔یہ ملک کونسا ہو گا ؟ ہم حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔مسلمانوں کی گزشتہ چارسوسال کی تاریخ کے جائزے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ